.

سابق صدراوباما ایسی غلطی کااعادہ نہ کریں:امریکی کانگریس کے ارکان کا صدربائیڈن کو مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس کے 40 ارکان پر مشتمل ایک گروپ نے صدر جوبائیڈن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران کے معاملے میں سابق صدر براک اوباما ایسی غلطی کا ارتکاب نہ کریں اور اس کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو نہیں ہٹائیں۔

امریکی سینیٹر ٹام کاٹن اور ایوانِ نمایندگان کے رکن مائیک گلاگر نے جمعرات کو ایک قرارداد متعارف کرائی ہے۔اس پرکانگریس کے 44 ارکان کے دست خط ہیں۔

انھوں نے ایک دست خط شدہ بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’امریکا کو ایرانی نظام کے خلاف اس وقت تک پابندیاں برقرار رکھنی چاہییں جب تک وہ جوہری خواہشات سے باز نہیں آجاتا اور خطے بھر میں تشدد اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوجاتا۔‘‘

انھوں نے بیان میں کہا ہے کہ ’’ایران نے اوباما انتظامیہ کی کم زور پالیسیوں کا فائدہ اٹھایا تھا۔صدر بائیڈن کو ان ہی غلطیوں کا اعادہ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

جو بائیڈن حالیہ ہفتوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی سخت پاسداری کرے تو ان کی انتظامیہ بھی ایسا کرنے کو تیار ہوگی لیکن ایران اس سے پہلے امریکا سے تمام پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کررہا ہے۔

تاہم امریکی صدر کے ناقدین ان پر یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف پابندیوں کو برقرار رکھیں تا کہ اس کو جوہری سمجھوتے کی پاسداری کے لیے مجبورکیا جاسکے۔

مگر اس کے باوجود بائیڈن انتظامیہ نے حال ہی میں امریکا کے اس دعوے سے دستبرداری کا بھی اعلان کردیا ہے کہ ایران کے خلاف جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں پابندیاں عاید کی گئی تھیں۔انھوں نے اقوام متحدہ میں تعینات ایرانی سفارت کاروں کے خلاف عاید کردہ سفری پابندیاں بھی ختم کردی ہیں اور یمن میں اس کی گماشتہ حوثی ملیشیا کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کردیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اس کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس کے ردعمل میں ایران نے جوہری سمجھوتے کی شرائط کی مرحلہ وار پاسداری نہ کرنے کااعلان کیا تھا اور اس نے یورینیم کو 20 فی صد تک افزودہ کرنا شروع کردیا تھا۔

ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ سوموار کو کہا تھا کہ ہم اپنے جوہری پروگرام کے معاملے میں امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران یورینیم کو 60 فی صد تک مصفا کرسکتا ہے لیکن انھوں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا ہے۔

امریکی عہدےداروں کا کہنا تھا کہ علی خامنہ ای کا یہ بیان دھمکی کے مترادف ہے لیکن اس کے باوجود امریکا ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے میں واپسی کے لیے مذاکرات کو تیار ہے۔گذشتہ ہفتے یورپی یونین نے ایران کو بھی ان مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

تاہم ایران نے ابھی تک صدر بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی کسی پیش کش کا مثبت جواب نہیں دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی بات چیت سے قبل امریکا ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو ختم کرے جبکہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ ’’امریکا انتظار کررہا ہے لیکن ہمارا صبرغیرمحدود نہیں ہے۔‘‘