.

انڈونیشیا میں ضبط ایران اور پاناما کے جہازوں پر جرائم میں ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشیا کی وزارت برائے قومی سلامتی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور پاناما کے پرچم بردار دو بحری جہاز جنھیں انڈونیشیا نے گذشتہ ماہ قبضے میں لیا تھا، جرائم میں ملوث ہیں اور ان کے عملے سے مزید تفتیش جاری ہے۔

ایران اور چین کے عملے کو لے کر سفر کرنے والے دونوں سپر ٹینکرز کو گذشتہ ماہ انڈونیشیا کے علاقائی پانی میں جزیرے بورنیو کے قریب غیر قانونی طور پر تیل کی منتقلی کے شبے میں روکا گیا تھا۔

ابتدائی تفتیش کے بعد انڈونیشیا کے حکام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں جہاز انڈونیشیا کے علاقائی پانیوں میں غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا کے حکام فی الحال مشتبہ افراد کے خلاف فرد جرم تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا کے حکام دونوں جہازوں کی غیر قانونی طور پر ایندھن کی منتقلی، غیر قانونی طور پر علاقائی پانیوں میں داخل ہونے اور انڈونیشیا کے علاقائی پانیوں میں خطرناک مواد کو ٹھکانے لگانے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ان دونوں جہازوں کو جنہیں 23 جنوری کو دکھا گیا تھا جان بوجھ کر اپنی معلومات اور شناخت کو مخفی رکھا۔ انہوں نے بورڈ پر الیکٹرانک شناختی نظام بند کر دیئے اور ریڈیو کے ذریعے کیے گئے رابطے کا جواب نہیں دیا۔