.

جمال خاشقجی کیس سے متعلق امریکی انٹیلی جنس رپورٹ شواہد پرمبنی نہیں:سیکریٹری جنرل جی سی سی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل نایف الحجراف نے کہا ہے کہ امریکا کی مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹ شواہد پر مبنی نہیں۔ انھوں نے اس ضمن میں سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ بیانات کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت کے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوّث ہونے سے متعلق امریکا کا جائزہ کوئی ٹھوس شواہد پر مبنی نہیں ہے۔

جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے سعودی عرب کے علاقائی اور عالمی امن وسلامتی کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار کو سراہا ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کی کوششوں کی بھی بھرپور حمایت کی ہے۔

سعودی عرب نے جمعہ کو ایک بیان میں امریکا کی جمال خاشقجی کے قتل کیس سے متعلق جائزہ رپورٹ کو منفی ، جھوٹ پر مبنی اور غلط قرار دے کر مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اس کے لیے بالکل ناقابل قبول ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اس رپورٹ کو ڈی کلاسیفائی کیا ہے۔اس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر یہ الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے 2018ء میں آپریشن کی منظوری دی تھی ۔اس کے نتیجے میں استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں جمال خاشقجی کا قتل ہوا تھا۔

سعودی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ اس رپورٹ میں نامکمل اور غلط معلومات ہیں اور ان کی بنیاد پر سعودی قیادت کے بارے میں غلط نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔