.

خاشقجی کیس سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے تیز اور علانیہ اقدامات کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے کیس میں تحقیقات اور عدالتی کارروائی میں تقریبا دو سال لگے۔ اس دوران میں مختلف نوعیت کی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ سعودی عرب کی قیادت نے انٹیلی جنس اداروں میں اصلاحات کا فیصلہ کیا۔ پھر اس قتل کے ذمے داران کے خلاف عدالتی کارروائی ہوئی جس میں خاشقجی کے اہل خانہ اور مختلف ممالک کے عہدے داران موجود رہے۔ یہاں تک کہ ستمبر 2020ء میں فیصلے کے بعد یہ کیس بند ہو گیا۔

خاشقجی کیس میں مملکت نے تیز اور علانیہ اقدامات اٹھائے۔ جرم کے ارتکاب کے چند روز بعد شاہ سلمان نے تحقیقات کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں استغاثہ نے 18 ملزمان کو حراست میں لیا۔ ان میں انٹیلی جنس کے ذمے داران بھی شامل تھے۔

اس موقع پر شاہ سلمان نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔ اس کا مقصد انٹیلی جنس پریذیڈنسی کے ڈھانچے کی از سر نو تشکیل، اس کے نظام کو جدید بنانا، انٹیلی جنس کے اختیارات کا تعین کرنا اور اس کے کام کرنے کے حوالے سے اقدامات اور صلاحیتوں کا جائزہ لینا تھا۔

سرکاری استغاثہ نے تحقیقات کے بعد 15 نومبر 2018ء کو کیس میں 11 افراد پر فرد جرم عائد کر دی۔ اس کے بعد 8 جنوری 2019ء کو ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی کی پہلی سماعت ہوئی۔

دسمبر 2019ء میں 8 ملزمان کے خلاف ابتدائی عدالتی فیصلے جاری ہوئے۔ ان میں 5 ملزمان کو سزائے موت اور 3 کو قید کی سزا سنائی گئی۔ اس سلسلے میں 31 افراد کے ساتھ تحقیقات کی گئی تھیں۔

مئی 2020ء میں جمال خاشقجی کے اہل خانہ نے سعودی صحافی کے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کر دیا۔

ستمبر 2020ء میں مملکت کی سرکاری استغاثہ نے اس کیس کو بند کر دیا۔ خاشقجی کے ورثاء کی جانب سے شرعی قصاص سے دست بردار ہونے کے بعد عدالت نے ملزمان کو 124 برس قید کی حتمی سزا سنائی۔