.

دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ترکی کو کیوں ‌چھوڑ رہی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی ایک بڑی فرم نے ترکی میں اپنے 40 فی صد حصص فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ترک لیرہ اپنی قدر کھو رہا ہے۔

برطانوی کمپنی کی طرف سے ترکی چھوڑنے کے بعد یہ امکان ہے کہ کئی دوسری عالمی کمپنیاں بھی انقرہ میں اپنے دفاتر بند کرنے پر غور کریں‌ گی۔ بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے ترکی سے نکلنے کی ایک بڑی وجہ ترکی کی دگرگوں معیشت قرار دی جاتی ہے۔

برطانیہ کی 'اویوا' نامی کمپنی نے ترکی میں جاری موجودہ مالیاتی بحران میں خسارے کے خطرے کے پیش نظر اپنے چالیس فی صد حصص فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اویوا نے سٹی گروپ اور یونٹ کریڈٹ کے ساتھ مشترکہ معاہدہ کر رکھا تھا۔

ترکی کےذرائع ابلاغ کے مطابق توقع ہے کہ ایک انشورینس کمپنی 'آگیا' برطانوی کمپنی سے اس کے شیئرز خریدے گی جن کی مالیت 10 کروڑ 73 لاکھ ڈالر کے برابر ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کی ایک دوسری انویسٹمنٹ بنک HSBC بھی ترکی سے اپنا کاروبار ختم کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

رواں سال کے اوائل میں بنک نے اپنا نیٹ ورک ترکی سے باہر لے جانے کے امکان کا اظہار کیا تھا۔ بنک کا کہنا تھا کہ اگر اسے کوئی مقامی شراکت دار مل گیا تو وہ ترکی سے واپس جانے کے لیے تیار ہے۔

ممکنہ طور پر ترکی چھوڑنے والی عالمی کمپنیوں‌ میں 'ووکس ویگن' بھی شامل ہے مگر دوسری طرف ترکی کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا وبا عالمی کمپنیوں کی ترکی میں کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کرنے کا سبب بنی ہے۔

اقتصادی امور کے تجزیہ نگار جان کیکی شیم کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ترکی میں سرمایہ کاری غیر منطقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بڑی بین الاقوامی کمپنیاں ترکی سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہیں یا محدود کررہی ہیں۔ ایسے میں غیر ملکی کمپنیوں‌ کی سرمایہ کاری سرمائے کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ترک حکومت غیرملکی سرمائے کو تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے۔ موجودہ ترک حکومت نے اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ کشیدگی اور امریکا اور مغرب کے ساتھ تعلقات کو الجھا رکھا ہے۔