.

یمنی حوثی جنسی تشدد کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں:برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے یمن کے حوثی شیعہ باغیوں پر جنسی تشدد کو سیاسی کارکن خواتین کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور ان کی یمن میں سیاسی کارکن خواتین کو زیرحراست رکھنے، انھیں تشدد اور عصمت ریزی کا نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

برطانوی دفترخارجہ کے اس بیان سے چندے قبل ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حوثی ملیشیا کے پولیس سربراہ سلطان صالح زابن پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں پابندی عاید کردی ہے۔

برطانیہ کے وزیر مملکت برائے امورخارجہ جنوبی ایشیا اور خصوصی ایلچی برائے امتناع جنسی تشدد لارڈ احمد نے ایک بیان میں کہا ہے :’’سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2564 اس بات کی واضح مظہر ہے کہ عالمی برادری جنگ زدہ علاقوں میں تشدد اور جنسی تشدد کے استعمال کو ہرگز بھی قبول نہیں کرے گی۔‘‘

انھوں نے کہا کہ زابن پر حوثیوں کے محکمہ تفتیش جرائم (سی آئی ڈی) کی قیادت کے الزام میں بالکل درست طور پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔انھوں نے یمن میں سیاسی طور پر متحرک خواتین کے خلاف گرفتاریوں ،انھیں زیرحراست رکھنے ،تشدد ، جنسی تشدد اور عصمت ریزی کے سنگین جرائم کی مہم برپا کررکھی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو اس ضمن میں ایک قرار داد منظور کی تھی۔ اس کے تحت یمنی افراد کے خلاف انفرادی پابندیوں میں مزید ایک سال کی توسیع کی گئی ہے اور اس میں صنعاء میں محکمہ تفتیش جرائم کے ڈائریکٹر کا نام بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی اس قرارداد کا مسودہ برطانیہ نے تیار کیا تھا اور اس کے حق میں سلامتی کونسل کے چودہ ارکان نے ووٹ دیا ہے جبکہ روس اس پر رائے شماری کے وقت غیر حاضررہا تھا۔یوں اس نے قرارداد کو ویٹو بھی نہیں کیا ہے۔

اسی قرارداد کے تحت صالح عیدہ زابن کا نام پابندیوں کا شکار یمنیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’’ وہ ایسی کارروائیوں میں ملوث تھے جن کے نتیجے میں یمن میں سلامتی اور استحکام خطرے سے دوچار ہوگئے تھے۔انھوں نے ایسی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے جن پربین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔‘‘

اس قرارداد کے مطابق’’ صالح زابن نے یمن میں فعال سیاسی کارکن خواتین کو ڈرانے دھمکانے ، منظم انداز میں گرفتاریوں ،حراست میں رکھنے،تشدد اور جنسی تشدد کے منظم انداز میں استعمال میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘