.

روس کے پہلے جنگی بحری جہاز کی نیول بیس کے قیام سے قبل پورٹ سوڈان آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کا پہلا جنگی بحری جہاز’’ایڈمرل گریگورویچ‘‘فریگیٹ بحیرہ احمر کے کنارے واقع سوڈان کی بندرگاہ پر اتوار کے روز پہنچ گیا ہے۔روس اسی پورٹ سوڈان میں اپنا بحری اڈا قائم کرنا چاہتا ہے۔

روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق ایڈمرل گریگورویچ پورٹ سوڈان میں داخل ہونے والا روس کا یہ پہلا جنگی بحری جہاز ہے۔

روس اور سوڈان کے درمیان دسمبر میں پورٹ سوڈان سے متصل شمال میں ایک بحری فوجی اڈے کے قیام سے متعلق سمجھوتا طے پایا تھا۔روسی حکومت کی ویب گاہ کے مطابق روس پورٹ سوڈان میں ’’لاجسٹیکل اسپورٹ سنٹر‘‘ قائم کرے گا جہاں ’’مرمت اور ری سپلائی ‘‘ کی سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔

سوڈان اور روس کے درمیان یہ سمجھوتا پچیس سال کی مدت کے لیے کارآمد رہے گا اور اگر طرفین میں سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوا تو اس کی ازخود ہی مزید دس سال کے لیے تجدید ہوجائے گی۔

دستاویز کے مطابق سوڈان میں روس کے فوجی اڈے کے قیام کا مقصد خطے میں امن واستحکام کو برقرار رکھنا ہے۔روسی بحریہ کو اس اڈے پر ایک وقت میں چار بحری جہاز لنگرانداز کرنے کی اجازت ہوگی۔ وہ جوہری ہتھیاروں سے لیس جہاز بھی وہاں لنگرانداز کرسکے گی۔اس بحری اڈے پر تین سو روسی فوجی اور سویلین اہلکار تعینات ہوں گے۔

روس کو اس بحری اڈے کو چلانے کے لیے ہتھیاروں ،گولہ بارود اور فوجی آلات سوڈان کے دوسرے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے ذریعے لانے کی اجازت ہوگی۔

یادرہے کہ روس اور سوڈان کی مسلح افواج نے مئی 2019ء میں دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق ایک سات سالہ سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اس کے علاوہ روس نے سوڈان کو فوجی اور شہری مقاصد کے لیے جوہری تعاون کی بھی پیش کش کی تھی۔

سوڈان کے معزول مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر نے 2017ء میں ماسکو کا دورہ کیا تھا اور روسی صدر ولادی میر پوتین پر زوردیا تھا کہ وہ ان کے ملک کو امریکا سے تحفظ مہیا کریں۔انھوں نے کہا تھا کہ سوڈان کی مسلح افواج کو جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس کرنے کے لیے دفاعی شعبے میں دوطرفہ تعاون میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔