.

عراق میں مداخلت پراختلافات؛انقرہ میں متعیّن ایرانی سفیرترک وزارتِ خارجہ میں طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کے روز انقرہ میں متعیّن ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے اور ان سے ایران کے اس بیان پر احتجاج کیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ترکی عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔اس نے ایران سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ترکی کی اناطولو خبررساں ایجنسی کے مطابق انقرہ نے بغداد میں متعیّن ایرانی سفیر کے الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ترک فورسز عراق میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی ملیشیا کے خلاف لڑرہی ہیں۔

ترکی کی مسلح افواج نے حال ہی میں عراق کے شمال میں واقع قندیل کے پہاڑی علاقے اور سنجار میں پی کے کے کے ٹھکانوں کو حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔واضح رہے کہ ترکی اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔پی کے کے 1984ء سے ترک ریاست کے خلاف ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں مسلح جدوجہد کررہی ہے۔

اناطولو کی رپورٹ کے مطابق ’’عراقی حکام سمیت تمام فریق اس بات (پی کے کے کی عراق میں موجودگی )سے آگاہ ہیں اور انقرہ نے ایرانی سفیر سے یہی کہا ہے کہ ایران ترکی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کرے،اس کی مخالفت نہیں کرے۔‘‘

ترکی نے فروری کے اوائل میں کرد جنگجوؤں پر 12 ترکوں اور ایک عراقی کو شمالی عراق میں قتل کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔کردجنگجوؤں نے انھیں یرغمال بنا رکھا تھا۔

اس واقعے کے ردعمل میں ترک فورسز نے پی کے کے کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اس پر بغداد میں ایرانی سفیر ایرج مسجدی نے ترک فورسز کو خبردار کیا تھا کہ انھیں عراقی سرزمین کے لیے خطرے کا موجب نہیں بننا چاہیے۔

انھوں نے ہفتے کے روز نشرہونے والے ایک انٹرویو میں کہا:’’ہم ہرگز یہ قبول نہیں کرسکتے کہ ترکی یا کوئی اور ملک عراق میں مداخلت کرے یا فوجی چڑھائی کرے یا اس کی عراق میں فوجی موجودگی ہو۔‘‘

بغداد میں متعیّن ترک سفیر فتح یلدیز نے اس کا ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ’’ایرانی سفیر شاید آخری شخص ہیں جو ترکی کو عراق کی سرحدوں کے تحفظ کا کہہ رہے ہیں۔‘‘