.

ایران نواز یمنی حوثی مآرب میں جنگی کارروائی فوراً روک دیں: امریکی وزیرخارجہ

سعودی عرب اور ہادی حکومت یمن میں جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس کے لیے پُرعزم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت یمن میں جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور وہ اس کے لیے پُرعزم ہیں۔انھوں نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر زوردیا ہے کہ وہ بھی اس کا مثبت جواب دیں۔

وہ یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹِم لنڈرکنگ کے خطے کے دورے کے بعد اقوام متحدہ کے زیراہتمام امدادی کانفرنس میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے لنڈرکنگ کی سعودی اور یمنی قیادت سے بات چیت کے حوالے سے بتایا کہ یہ دونوں فریق یمن میں جاری بحران کا کوئی حل چاہتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدپار حملوں اورجارحانہ جنگی کارروائیوں کو روک دے کیونکہ اس سے جنگ طول پکڑے گی۔

حوثیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں سعودی عرب کے شہروں کی جانب متعدد ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ان میں ایک حملے میں ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا اور دارالحکومت الریاض کی جانب بھی بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے لیکن انھیں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج نے ناکارہ بنا دیا تھا۔ٹِم بلیکن کا اسی جانب اشارہ تھا۔

انھوں نے کہا:’’پہلا ضروری قدم یہ ہے کہ حوثی مآرب میں جارحانہ کارروائی روک دیں۔اس شہر میں پہلے ہی دس لاکھ سے زیادہ دربدر افراد رہ رہے ہیں۔حوثی سعودیوں اور یمنی حکومت کے ساتھ مل کر امن کی جانب پیش قدمی کریں۔‘‘

مسٹر انٹونی بلینکن نے ڈونر کانفرنس میں کہا کہ’’ صرف امداد سے تنازع ختم نہیں ہوگا۔ہم یمن میں جنگ کے خاتمے ہی سے انسانی بحران کو ختم کرسکتے ہیں۔اس لیے امریکا جنگ ختم کرانے کے لیے ازسرنو اپنی سفارتی کوششیں کررہا ہے۔‘‘

مآرب میں یمن کی قانونی حکومت کا کنٹرول ہے اور یہاں ملک کے دوسرے علاقوں سے گذشتہ چھے سال کے دوران میں بے گھر ہونے والے افراد عارضی خیموں میں رہ رہے ہیں۔اب اس شہر پر قبضے کے لیے حوثیوں کی جارحانہ کارروائی سے ان لاکھوں بے گھر یمنیوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں اوروہاں ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہونے کا خطرہ ہے۔

یمنی حکومت کے مطابق مآرب گورنری میں قریباً140 جگہوں پر بے گھر افراد کو بنیادی پناہ گاہیں مہیا کی گئی ہیں اور ان کی تعداد بیس لاکھ کے لگ بھگ ہوسکتی ہے۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مآرب میں لڑائی جاری رہتی ہے تو اس سے لاکھوں شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جائیں گی اور ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔