.

ترک اپوزیشن نے صدر ایردوآن کو ملک میں‌ ہونے والی خود کشیوں کا ذمہ دار قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی حزب اختلاف نے ملک بھر میں‌ خود کشی کے غیرمعمولی رجحان اور آئے روز ہونےوالے واقعات کی تمام تر ذمہ داری صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت پر عاید کی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں خود کشی کے بڑھتے واقعات کی ذمہ دار حکمراًں 'آق' پارٹی ہے جس کی معاشی پالیسیوں‌ اور صدارتی نظام کے نتیجے میں عوام خود کشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے دور میں ترکی میں خود کشی کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی۔

65 افراد فی ہفتہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "صدارتی نظام" میں ہر ہفتے اوسطا 65 افراد خودکشی کرتے ہیں۔ اس وقت خود کشی کی شرح بڑھ کر 48 فیصد ہوگئی۔ سال 2017-2019 کے درمیان معاشی وجوہ کی بنا پر خودکشیوں کی تعداد میں 38 فی صد اضافہ ہوا۔

حزب اختلاف 'سی ایچ پی' کے نائب صدر نے ونک اک کوش الگزدی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے فیصلوں اور پالیسیوں سے ملک میں خودکشی کے رجحان میں 48 فی صد اضافہ ہوا ہے۔2301 افراد نے مختلف وجوہات کی بنا پر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ سنہ 2002 کے بعد یہ تعداد سالانہ 4306 تک جا پہنچی ہے اور یہ پورا عرصہ 'آق' پارٹی کے اقتدار پر مشتمل ہے۔

روزانہ 10 میں سے 4 افرادخودشی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں‌کہا گیا ہے کہ حکمراں جماعت 'آق' کی پالیسیوں‌کے باعث خود کشی سے ہر ہفتے فوت ہونے والوں کا تناسب 19 فی صد ہے جبکہ 2017ء سے 2019ء کے درمیان اوسطا ہر ہفتے 65 افراد خود کشی کرتے یا اقدام خود کشی کرتے ہیں۔ 2017ء سے 2019ء کے دوران ترکی میں صدارتی نظام کے عرصے میں 9916 افراد نے خود کشی کی۔ یہ تعداد ترکی میں کل اموات کا 19 فی صد ہے۔2002ء سے 2019ء تک ترکی میں مجموعی طور پر 53 ہززار 425 افراد نے خود کشی کی۔