.

حوثی ملیشیا کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے سعودی عرب میں شہریوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کے عزم پر زور دیا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں میں واشنگٹن ریاض کا ساتھ دینے اور اس کے دفاع میں مدد فراہم کرنے کا پابند ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کو کہا تھا کہ حوثی حملوں سے نہ صرف شہریوں کو خطرہ ہے بلکہ یمن کے امن و استحکام کو بھی خطرہ ہے۔ بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کے حملوں کے مقابلےکے لیے سعودی عرب کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ امریکا نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں اور سعودی عرب پر گھنائونے حملے روکے۔

امریکی وزارت خارجہ نے وضاحت کی کہ حوثیوں پر زور دیا کہ وہ یمن میں امن کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب مارٹن گریفتھیس اور یمن کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹموتھی لینڈرنگ کی کوششوں میں شامل ہونا چاہیئے۔

خیال رہے کہ یمن میں آئینی حکومت کے دفاع کے لیے قائم عرب اتحاد کے ترجمان نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض پر بیلسٹک میزائل حملہ کرنے کے ساتھ خمیس مشیط اور جازان شہروں پربھی چھ ڈرون حملے کیے ہیں تاہم ان حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔