.

صدر بائیڈن ایران سے جوہری سمجھوتے میں واپسی سے باز رہیں: اسرائیل

ریٹائرڈ فوجی اور خفیہ اداروں کے 1000 اہلکاروں کے دست خطوں سے امریکی صدر کے نام انتباہی خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے ریٹائرڈ فوجی اور انٹیلی جنس عہدیداروں نے امریکی صدر جو بائیڈن کو ایک خط تحریر کیا ہے۔اس میں انھوں نے امریکی صدر کو ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے میں واپسی سے خبردار کیا ہے۔

عہد

اسرائیلی خط کے مطابق:’’جوہری سمجھوتے کا احیاء دراصل اسرائیل کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔‘‘ خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’’ایران سے جوہری سمجھوتے میں امریکا کی دوبارہ شمولیت سے خطے میں جوہری ہتھیار بنانے کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔‘‘

واضح رہے کہ اسرائیل سے بھیجے گئے اس خط پر کم سے کم ایک ہزار ریٹائرڈ فوجی اور خفیہ اداروں کے عہدے داروں کے دست خط موجود ہیں۔

’’جوہری معاہدہ ہو یا نہ ہو‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس رائے کا اظہار کرچکے ہیں کہ ان کا ملک جارح اور انتہا پسند ایرانی حکومت کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔

نیتن یاہو کے مطابق: ’’میں امریکی صدر جو بائیڈن کو بتا چکا ہوں کہ میں ایران کو جوہری معاہدے یا اس سے ہٹ کر کسی بھی طرح تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکوں گا۔‘‘

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں 2015 میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سمجھوتے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔تاہم اس میں بیان کردہ متن اس ضمن میں ناکافی ضمانت فراہم کرتا ہے، اسی لیے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

ایران نے امریکی فیصلے کے ردعمل میں اپنے جوہری پروگرام پر عاید کی جانے والی پابندیوں کا احترام کرنے سے انکار کر دیا۔

صدرجو بائیڈن یہ اعلان کرچکے ہیں کہ امریکا جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ ایران معاہدے کی شرائط پر من وعن عمل کے لیے آمادگی ظاہر کرے۔