.

’’امریکا سعودی عرب میں بیرونی حملوں سے دفاع کے لیےدرکارآلات کی دستیابی یقینی بنائےگا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا سعودی عرب کے پاس ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے حملوں اور یمن سے لاحق خطرات کے مقابلے میں دفاع کے لیے درکار تمام ضروری آلات کی موجودگی یقینی بنائے گا۔

یہ بات امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے منگل کے روز ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے دو کمانڈروں کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کے بعد کہی ہے۔انھوں نے کہا:’’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سعودی عرب اور ہمارے علاقائی شراکت داروں کے پاس اپنے دفاع کےلیے درکار آلات ہوں،بہ شمول یمن سے لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے آلات ہوں جہاں سے ایران کی حمایت اور ہتھیاروں سے حملے کیے جارہے ہیں۔‘‘

انٹونی بلینکن نے یمن میں ایران کی فوجی مداخلت پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ وہاں تنازع کو ہوا دے رہا ہے۔اس سے کشیدگی کے پھیلنے اور خطے میں مزید عدم استحکام کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’حوثیوں کو ایران کی مدد وحمایت حاصل ہے اور وہ یمن اور سعودی عرب میں شہری اہداف اور شہری ڈھانچے پر حملوں کے لیے ایرانی ہتھیار ، انٹیلی جنس ، تربیت استعمال کررہے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکا یمن میں جاری تنازع کے حل کے لیے کام کرتا رہے گا۔ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ یمن میں جاری بحران کے پائیدار سیاسی حل کے لیے مخلصانہ انداز میں کام کریں اور یمنی عوام کو درپیش خوف ناک انسانی بحران کا کوئی حل نکالیں۔‘‘

قبل ازیں امریکا نے حوثی ملیشیا کے نیول کمانڈر اور فضائیہ کے کمانڈر پر پابندیاں عاید کی ہیں۔امریکا کے محکمہ خزانہ نے منگل کے روز حوثی ملیشیا کے کمانڈروں منصورالسعدی اور احمد علی احسن الحمزی کے نام پابندیاں کا شکار افراد کی فہرست میں شامل کر لیے ہیں۔ان پر حوثی ملیشیا کی فورسز کے یمنی شہریوں ، سرحدی اقوام اور بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کے بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ’’حوثی ملیشیا ایرانی نظام کے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کےایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کررہی ہے۔‘‘