.

امریکاکے خصوصی ایلچی برائے یمن کا حوثی لیڈروں سے پہلا براہِ راست ٹاکرا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر جو بائیڈن کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ٹموتھی لنڈرکنگ نے گذشتہ ماہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے نمایندوں سے پہلی براہِ راست ملاقات کی تھی۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے بدھ کو پہلی مرتبہ اطلاع دی ہے کہ لنڈرکنگ اور حوثیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار عبدالسلام کے درمیان 26 فروری کو عُمان کے دارالحکومت مسقط میں ملاقات ہوئی تھی لیکن طرفین نے اس میں گفتگو کی تفصیل سرکاری طور پر جاری نہیں کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ٹِم لنڈرکنگ قبل ازیں یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ابلاغ کے لیے بڑے جارحانہ انداز میں چینل استعمال کررہا ہے لیکن انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی تھی۔

مذکورہ ملاقات بائیڈن انتظامیہ کے حوثی ملیشیا کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے حذف کرنے کے فیصلے کے فوری بعد ہوئی تھی۔لنڈرکنگ نے مبیّنہ طور پر حوثیوں پر زوردیا تھا کہ وہ گورنری مآرب میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی فوجی کارروائی روک دیں اور سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کریں۔

امریکی ایلچی اس وقت اپنے تقرر کے بعد خطے کے دوسرے دورے پر ہیں۔انھوں نے سعودی عرب ، کویت ، عُمان اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے یمن کی صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا یمن میں جاری جنگ اور انسانی المیے کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر دُہری حکمت عملی پر کام کرے گا۔

صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے گذشتہ ہفتے ہی حوثی ملیشیا اور اس کے لیڈروں کے نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے حذف کیے تھے۔اس کے علاوہ اس نے ایران کے بارے میں بھی نرم مؤقف اختیار کیا ہے۔اس پر امریکی صدر کو کڑی تنقید کا سامناہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے حوثیوں کو اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں دہشت گردتنظیم قراردیا تھا۔ صدربائیڈن نے ان کے دوسرے فیصلوں کی طرح اس اقدام کو بھی کالعدم قراردے دیا تھا۔اس کے تحت حوثی ملیشیا کے لیڈر اور دوسینیر عہدے داروں کے نام بھی خصوصی عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کردیے تھے۔

مگراس کے باوجود حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے شہروں کی جانب ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے جاری رکھے ہیں۔اس کے ردعمل میںامریکا کے محکمہ خزانہ نے منگل کے روز حوثی ملیشیا کے دوکمانڈروں منصورالسعدی اور احمد علی احسن الحمزی کے نام پابندیاں کا شکار افراد کی فہرست میں شامل کر لیے ہیں۔ان پر حوثی ملیشیا کی فورسز کے یمنی شہریوں ، سرحدی اقوام اور بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔