.

یمنی حوثی عالمی قراردادوں اورانسانی قانون کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں:سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا کے تعلق سے اپنی ذمے داریاں پوری کرے اور اس کا دہشت گردی کی کارروائیوں پر مواخذہ کرے۔

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط لکھا ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں:’’حوثی ملیشیا نے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کو نظرانداز کرنے اور ان کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔‘‘

انھوں نے خط میں حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے شہروں اور سرحدی علاقوں کی جانب حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کا تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ حوثیوں کی کارروائیوں سے یمن میں جامع سیاسی حل کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔نیز خود سلامتی کونسل کی قراردادوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

عبداللہ المعلمی نے لکھا ہے کہ ’’اس طرح کی ملیشیائیں اپنے محدود سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گردی کے کردار میں یقین رکھتی ہیں۔‘‘

وہ اپنے خط کے آخر میں لکھتے ہیں:’’ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ سعودی عرب کو اپنے شہریوں، مکینوں اور علاقوں کا بین الاقوامی قانون کے مطابق تحفظ اور دفاع حق حاصل ہے۔‘‘

حوثی ملیشیا نے اس ہفتے کے دوران میں یمن سے سعودی عرب کی جانب متعدد ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ان میں سے ایک بیلسٹک میزائل سعودی دارالحکومت الریاض پر داغا گیا تھا۔اس کو عرب اتحاد نے سراغ لگا کر تباہ کردیا تھا۔اس کا ملبہ شہر کے اقامتی علاقے میں ایک مکان پر گراتھا جس سے اس مکان کو نقصان پہنچا ہے۔