.

ایرانی وزیرخارجہ کا جوہری ڈیل سے متعلق جلد ٹھوس لائحہ عمل پیش کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیرخارجہ محمد جوادظریف نے عالمی طاقتوں سے جوہری ڈیل کے بارے میں جلد ٹھوس اور تعمیری لائحہ عمل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’وہ سفارتی چینلوں کے ذریعے اس نئے تعمیری لائحہ عمل کو جلد پیش کریں گے۔‘‘

ان کے اس بیان سے قبل یورپی ممالک نے ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) میں ایران کی جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیوں سے متعلق قرارداد پیش نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایران نے امریکا اور یورپی ممالک پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے گذشتہ ہفتے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے سے روک دیا تھا۔یورپی ممالک اسی سے متعلق قرارداد پیش کرنا چاہتے تھے۔

ایران نے اسی ہفتے یہ کہا تھا کہ اس کے خیال میں جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق غیررسمی اجلاس کے لیے مناسب وقت نہیں ہے۔تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے غیررسمی بات چیت شروع کرنے سے متعلق حوصلہ افزا اشارے دیے ہیں۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ چیزیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں اور ہمیں گذشتہ چند روز کے دوران میں مثبت اشارے ملے ہیں۔امریکا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی پیشگی شرط کے بغیر جوہری سمجھوتے سے متعلق مذاکرات کو تیار ہے۔

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں ایران سے 2015ء میں طے شدہ سمجھوتے کو خیرباد کہہ دیا تھا اور ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس کے بعد سے جوہری سمجھوتے کے بارے میں غیر یقنی صورت حال ہے۔

امریکا کے نئے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت پر اپنی آمادگی کا اظہار کرچکی ہے لیکن اس نے یہ شرط عاید کی ہے کہ ایران اس سے پہلے جوہری سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کرے اور مقررہ حد سے زیادہ یورینیم افزودگی کی تمام سرگرمیاں معطل کردے۔

دوسری جانب ایران یہ مطالبہ کرتا چلا آرہا ہے کہ امریکا کو پہلے ٹرمپ دور کی تمام پابندیوں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔اس کے بعد ہی وہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی پاسداری کرے گا اور یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کا عمل روک دے گا۔

بائیڈن انتظامیہ نے سابق صدر کے بعض اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا اور اس نے حال ہی میں نیویارک میں ایرانی سفارت کاروں کے داخلی سفر پر عاید بعض سخت پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔ خود صدر بائیڈن نے حال ہی میں ڈونلڈٹرمپ کے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے کہ امریکا کے جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں بحال ہوگئی تھیں۔