.

افغانستان:صوبہ ہلمند کی سابق خاتون پولیس سربراہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ، خاوند ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں مسلح افراد کے حملے میں خواتین پولیس کی سابق سربراہ شدید زخمی ہوگئی ہیں اور ان کے خاوند ہلاک ہوگئے ہیں۔

گورنر ہلمند کے ترجمان عمرژواک نے کہا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ میں پولیس افسر جوڑے پر فائرنگ کی ہے۔

صوبائی پولیس سربراہ کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مسلح افراد نے اس حملے میں خاتون پولیس افسر کو نشانہ بنایا تھا مگر گولیاں لگنے سے ان کے خاوند عبدالقیوم موقع پر ہی دم توڑ گئے ہیں۔مقتول خود بھی ایک پولیس افسر تھے اور صوبائی ہیڈکوارٹرز میں تعینات تھے۔

شدید زخمی خاتون پولیس افسر کا نام صرف ملالہ بتایا گیا ہے۔ وہ صوبے میں خواتین پولیس کی سربراہ رہ چکی ہیں۔ہلمند پولیس کے سربراہ کے ترجمان محمد زمان ہمدرد نے بتایا ہے کہ ملالہ نے خانگی امور سے متعلق مقدمات کو نمٹانے کے ذمے دار ہلمند پولیس کے شعبے میں 14 سال تک خدمات انجام دی ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس قاتلانہ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔عمر ژواک کا کہنا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

افغانستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔مسلح جنگجو لوگوں کو اہدافی حملوں میں قتل کررہے ہیں، بم حملے کررہے ہیں اور سکیورٹی فورسز کو بھی اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کے وفود کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی جنگ زدہ ملک میں شاخ نے بعض حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے دعوے کیے ہیں جبکہ بہت سے حملوں کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔افغان حکومت طالبان کو ان حملوں کا ذمے دار قراردیتی ہے جبکہ طالبان نے بیشتر حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

ادھر شمالی صوبہ بلخ میں ہفتے کی شب طالبان نے سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ صوبائی پولیس کے ترجمان عادل شاہ عادل نے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ضلع دولت شاہی میں لڑائی میں پانچ طالبان جنگجو بھی ہلاک ہوئے ہیں۔اس دوبدو لڑائی میں چھے پولیس اہلکار اور سات طالبان مزاحمت کار زخمی ہوگئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بلخ میں پولیس اہلکاروں پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ مسلح جنگجوؤں نے حملے میں 12 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے لیکن انھوں نے طالبان کے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔