.

امریکا عراق میں اتحادی فورسز پر راکٹ حملے کے ردعمل میں ضروری اقدام کرے گا:وزیر دفاع

ایران کو خود اپنا نتیجہ اخذ کرنا ہوگا کہ امریکا کو کب اور کہاں کارروائی کرنی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں عین الاسد فوجی اڈے پر راکٹ حملے کے ردعمل میں ان کا ملک اپنے مفادات کے دفاع کے لیے جو ضروری ہوا، کرے گا۔

وہ اے بی سی ٹی وی کے پروگرام ’’یہ ہفتہ‘‘ میں اتوار کے روز گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ امریکا نے عراق پر اس راکٹ حملے کی جلد تحقیقات مکمل کرنے پر زوردیا ہے تاکہ اس واقعے کے ذمے داروں کا تعیّن کیا جاسکے۔‘‘

وزیردفاع نے کہا:’’اگر ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ ہمیں کچھ کرنا چاہیے تو ہم (اس راکٹ باری کے جواب میں) اپنی پسند کے وقت کے مطابق اور اپنی منتخب جگہ پر حملہ کریں گے۔‘‘

ان کا اشارہ ایران کی جانب تھا۔انھوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اس کو خود اپنا نتیجہ اخذ کرنا ہوگا کہ امریکا کو کب کارروائی کرنی چاہیے۔

عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں واقع عین الاسد ائیربیس پر گذشتہ بدھ کی صبح دس راکٹ داغے گئے تھے۔اس حملے کے دوران میں اتحادی فورسز کے ساتھ کنٹریکٹر کے طور پرکام کرنے والا ایک امریکی شہری دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا تھا۔

کلوز سرکٹ کیمرے کی ویڈیو فوٹیج کے مطابق اس حملے میں تین گاڑیاں استعمال کی گئی تھیں اور ان سے امریکا کے زیرانتظام اس فوجی اڈے پر کاتیوشا راکٹ فائر کیے گئے تھے۔اس اڈے پر عراقی اور امریکا کی قیادت میں اتحادی فورسز کے فوجی تعینات ہیں۔

عراق سے العربیہ کے نمایندے نے بتایا تھا کہ صوبہ الانبار میں واقع قصبے البغدادی سے ایک میزائل لانچر پکڑا گیا تھا۔البغدادی امریکی فوج کے زیراستعمال عین الاسد فوجی اڈے کے نزدیک واقع ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے قریباً دو ہفتے پہلے عراق اور شام کے درمیان واقع سرحد پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا۔اس کے بعد عراق میں امریکا کی کسی تنصیب یا اڈے پر یہ پہلا حملہ تھا۔