سعودی وزیرخارجہ کا دوحہ کا پہلا دورہ؛امیرِقطر شیخ تمیم سے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان قطر سے تعلقات کی بحالی کے بعد سوموار کو پہلے دورے پر دوحہ پہنچے ہیں اور انھوں نے قطری قیادت سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیرخارجہ نے امیرقطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی سے ملاقات کی ہے اور ان سے سعودی ،قطر تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’’وزیر خارجہ نے اپنے اعزاز میں استقبالیہ کے موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نیک خواہشات پر مبنی پیغام امیرِ قطر شیخ تمیم کو پہنچایا ہے۔‘‘

اس سے پہلے سعودی وزیر خارجہ جب دوحہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے تو ان کے قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمان نے ان کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔

واضح رہے کہ پانچ جنوری کوالعُلا میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر سعودی عرب سمیت چار عرب ممالک نے قطر کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے قطر کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔اس ضمن میں ان ممالک اور قطر کے درمیان العُلا میں ایک سمجھوتا بھی طے پایا تھا۔اس میں خلیجی عرب ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے العلاء سربراہ اجلاس کے موقع پر کہا تھا کہ ’’خلیجی ممالک کو فوری طور پر متحد ہونے کی ضرورت ہے اور انھیں بالخصوص خطے میں ایران سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہیے۔‘‘

یادرہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر نے جون 2017ء میں قطر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔انھوں نے اس پر مصر کی قدیم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کی پشتیبانی، دوسرے انتہا پسند گروپوں کے علاوہ ایران سے تعلقات استوارکرنے اور ان چاروں ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا لیکن قطر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں