.

ترکی میں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ، حوا کی بیٹیاں تحفظ کی طالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں گذشتہ روز "عالمی یومِ نسواں" معمول کے مطابق نہیں گزرا۔ حکام نے خواتین سے متعلق سرگرمیوں میں شریک درجنوں عورتوں کو حراست میں لے لیا۔ اس کے علاوہ کھلے عوامی مقامات کی بندش کر کے پولیس نے وہاں خواتین کو اکٹھا ہونے سے روک دیا۔

ترکی میں خواتین اتحاد کے ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ گذشتہ روز آٹھ مارچ کو استنبول شہر میں مظاہرے کی کوشش کرنے والی متعدد خواتین کو حراست میں لے لیا گیا۔

اس سلسلے میں "خواتین کا قتل روک دو" پلیٹ فارم کی ترجمان ملک اوندر نے بتایا کہ "ہم نے عالمی یوم نسواں کے موقع پر تمام تر سیکورٹی دباؤ کے باوجود مظاہرہ کیا .. ترکی میں خواتین اپنے سادہ ترین حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں جس میں استنبول سمجھوتے پر عمل درامد شامل ہے"۔ خواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والی خواتین کارکنان کا کہنا ہے کہ مذکورہ سمجھوتا ان معاہدوں میں سے ایک ہے جو ترک خواتین کو تشدد سے محفوظ رکھتا ہے مگر انقرہ حکومت اس کی تمام شقوں کو نافذ نہیں کرتی۔

ترجمان کے مطابق گذشتہ برس ترکی میں 300 خواتین کے قتل کی تصدیق ہوئی جب کہ 171 دیگر خواتین پراسرار حالات میں وفات پا گئیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ "ہمارے بارہا مطالبوں کے بعد وزارت داخلہ اب مردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خواتین کے اعلان کے لیے خصوصی بیان جاری کرنے لگی ہے جو کہ اس سے پہلے نہیں ہوتا تھا۔ تاہم صرف یہ کافی نہیں ہے۔ وزارت داخلہ پر لازم ہے کہ وہ خواتین کے قتل کے جرائم کو اپنے ایجنڈے میں رکھے اور اس کی روک تھام کے لیے ایک مؤثر منصوبے کا اعلان کرے"۔

ترکی میں "آزاد خواتین" موومنٹ کی سرگرم کارکن نازان دیکیچی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جسٹس اینڈ ڈیولمپمنٹ پارٹی کے اقتدار تک پہنچنے کے بعد سے ملک میں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مردوں کے ساتھ تساہل برتا جا رہا ہے اور خواتین پر حملوں کی تائید ہو رہی ہے۔ قائدانہ یا اثر انداز ہونے والے مناصب پر خواتین کی موجودگی کی عدم خواہش نمایاں طور پر ظاہر ہے"۔

نازان کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت استنبول معاہدے سے انخلا کی خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہ اکہ "اس کے نتیجے میں خواتین کے قتل کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ بالخصوص جب کہ عدالتوں کی جانب سے ان جرائم کے مرتکب افراد کے ساتھ تساہل برتا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے اب ترکی میں ہر دو روز میں کم از کم ایک عورت کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے"۔

گذشتہ روز ترکی میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت "ریپبلکن پیپلز پارٹی" کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ "سال 2002ء میں ترک صدر ایردوآن کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک ملک میں 6732 خواتین کا قتل ہو چکا ہے۔ اسی طرح 17 ہزار خواتین 3 ہزار بچوں کے ساتھ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہی ہیں"۔