.

مسلمان اکثریتی ممالک سے امریکا سفر پر پابندی کے متاثرین دوبارہ درخواستیں جمع کروا سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلم اکثریتی اور افریقی ممالک سے سفر پر پابندی کے نتیجے میں مسترد کی جانے والی ویزہ درخواستیں دوبارہ جمع کروائی جاسکتی ہے۔

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے 20 جنوری کو صدارت کا حلف اٹھاتے ساتھ ہی ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ جو بائیڈن نے اپنے حکم نامے میں ٹرمپ کی سفری پابندیوں کو امریکا کے قومی ضمیر پر دھبا قرار دیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرنس کے مطابق 20 جنوری 2021 سے قبل جن افراد کی ویزہ درخواستیں مسترد کی گئی تھی انہیں نئی درخواستیں جمع اور دوبارہ سے فیس بھی ادا کرنا ہو گی۔جن افراد کی درخواستیں 20 جنوری کو یا اس کے بعد مسترد کی گئی ان کی درخواستوں پر بلا خرچ نظر ثانی دائر کی جا سکتی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2017 کے بعد سے 40 ہزار افراد کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے دور اقتدار میں امریکا کی بلیک لسٹ میں کچھ ممالک کا اضافہ اور کچھ کا اخراج کیا گیا تھا۔

ٹرمپ کی صدارت کے اختتام پر امریکا سفر پر پابندی کی لسٹ میں شامل ممالک میں میانمار، ایریٹریا، کرغزستان، لیبیا، نائیجیریا، شمالی کوریا، صومالیہ، سوڈان، شام، تنزانیہ، وینزویلا اور یمن شامل تھے۔