.

امریکی کانگریس کے نزدیک بم نصب کرنے والے مشتبہ شخص کی وڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی مرکزی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" نے رواں سال جنوری میں واشنگٹن میں کیپیٹول کی عمارت پر دھاوے کے حوالے سے ایک نئی وڈیو جاری کی ہے۔ وڈیو میں ایک شخص کو دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اس نے کانگریس پر دھاوے سے ایک روز قبل 5 جنوری کو واشنگٹن میں دستی بموں کو نصب کیا۔

جاری کی گئی وڈیو مشتبہ شخص کے مختلف مناظر پر مشتمل ہے۔ یہ مناظر امریکی دارالحکومت کے متعدد علاقوں میں سیکورٹی کیمروں میں محفوظ وڈیوز سے لیے گئے ہیں۔ مشتبہ شخص کالا ٹراؤزر پہنے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ تاہم اس نے اپنا سر ڈھانپا ہوا ہے، چہرے پر ماسک لگا رکھا ہے اور ساتھ ہی دھوپ کا چشمہ بھی لگایا ہوا ہے۔ اس کے ہاتھوں پر دستانے بھی موجود ہیں جب کہ کمر پر ایک بیگ بھی لٹکایا ہوا ہے۔

ایف بی آئی نے مذکورہ شخص کی حراست میں معاون ثابت ہونے والی معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی انعامی رقم مقرر کی ہے۔

شبہ ہے کہ مذکورہ شخص نے کانگریس کی عمارت کے نزدیک واقع ریپبلکن اور ڈٰیموکریٹک پارٹیوں کے مراکز کے قریب دستی بموں کو نصب کیا۔ یہ بم پھٹنے نہیں تھے اور شاید ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ دھاوے سے قبل پولیس کو کانگرس کی عمارت سے دور کر دیا جائے۔

یاد رہے کہ 6 جنوری کو اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے کانگریس کے صدر دفتر پر حملہ کر دیا تھا۔ اس روز کانگریس میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کی توثیق کے لیے اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔ اس ہنگامہ آرائی اور جھڑپوں کے دوران میں پانچ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دھاوے میں شرکت کی بنیاد پر 300 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ادھر امریکی وزارت دفاع نے منگل کے روز ایک اعلان میں کہا ہے کہ دارالحکومت واشنگٹن میں نیشنل گارڈز کے مشن کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کی جائے گی۔ پینٹاگان کے مطابق نیشنل گارڈز کے یونٹوں کا مشن 12 مارچ کو اختتام پذیر ہونا تھا جو اب 23 مئی کو مکمل ہو گا۔ تاہم مشن میں شامل عسکری اہل کاروں کی تعداد کم کر کے 2300 (تقریبا نصف) ہو جائے گی۔