.

ترکی عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا خواہاں: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور عرب ممالک کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات چلے آ رہے ہیں یہاں تک کہ مصر جیسے بڑے عرب اور ترکی کے درمیان سفارتی تعلقات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب ممالک اور ترکی کے درمیان اختلافات کی برف پگھل رہی ہے اور ترکی عرب ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں ہے۔

العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی نے مصر سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرنے کی درخواست دہرائی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی نے اپنا ایک سفارتی وفد اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بات چیت کے لیے قاہرہ بھیجنے کی تیاری شروع کی ہے۔ اس کے علاوہ مصری حکام کے ساتھ قبرصی اور یونانی عہدیداروں کی موجودگی میں بات چیت کی تجویز پیش کی ہے۔

دوسری طرف مصر نے زور دیا ہے کہ ترکی لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ طے پائے معاہدے معطل کرے۔ اسی طرح قاہرہ کا مطالبہ ہے کہ انقرہ لیبیا سے اپنی فوج واپس بلائے اور لیبیا میں موجود اپنے فوجی اڈے ختم کرے تاکہ لیبیا میں جاری محاذ آرائی ختم کرنے کے لیے تعمیری بات چیت کی راہ ہموار ہوسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ طے پائے معاہدے توڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ خاص طور پر وہ معاہدہ جس میں مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی وسائل کی تلاش کے لیے کیا گیا معاہدہ ہے۔

ذرائع کے مطابق ترکی مصر سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانا چاہتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ترک انٹیلی جنس چیف کو قاہرہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی، مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی وسائل کے لیے ترکی کے معاہدے اور لیبیا سے فوج سے واپسی کے معاملات پر بات چیت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔