.

’امریکا کو ایران میں صدارتی انتخاب سے قبل جوہری ڈیل کی جلدی نہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کو ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت کی کوئی جلدی نہیں اور وہ جون میں ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے گی۔

یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ایلچی برائے ایران راب میلے نے بدھ کو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ہم بہ الفاظ دیگرایران میں انتخابات کی وجہ سے عجلت کا مظاہرہ کریں گے اور نہ چیزوں کو سست روی کا شکار کریں گے۔‘‘

صدر جوزف بائیڈن جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں لیکن انھوں نے اس کی یہ شرط عاید کی ہے کہ ایران پہلے اس سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کرے اور حساس جوہری کام بند کردے۔

دوسری جانب ایران امریکا سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں عاید کردہ تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔صدر ٹرمپ نے 2018ء میں جوہری سمجھوتے کوخیرباد کہہ دیا تھا اور ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان کے ایرانی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان کے نتیجے میں ایرانی شہری گوناگوں مسائل سے دوچار ہوچکے ہیں۔

2015ء میں ایران نے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے میں اپنے حسّاس جوہری پروگرام کو منجمد کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن امریکا کے سابق صدر ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے سے انخلا کے ایک سال کے بعد 2019ء میں ایران نے دوبارہ یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنا شروع کردیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی ان سرگرمیوں کا مقصد مغرب بالخصوص امریکا سے زیادہ سے زیادہ سہولتیں حاصل کرنا ہے اور وہ اپنے جوہری پروگرام پر مزید قدغنیں لگانے سے قبل امریکا سے زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ ایرانی نظام صدارتی انتخاب سے قبل اپنے عوام کو کچھ سہولتیں مہیا کرسکے۔