.

سعودی عرب اورجرمنی میں ہائیڈروجن کی پیداوارکے لیے سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان ہائیڈروجن کی پیداوار کے مشترکہ منصوبے سے متعلق ایک سمجھوتا طے پایا ہے۔اس کے تحت دونوں ملک مل کر ہائیڈروجن پیدا کریں گے۔

سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور جرمنی کے وزیر برائے اقتصادی مور اور توانائی پیٹر آلٹمائر نے جمعرات کو ایک ورچوئل اجلاس کے دوران میں ہائیڈروجن کی پیداوار سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دست خط کیے ہیں۔

شہزادہ عبدالعزیز نے اس موقع پر کہا ہے کہ ’’ ہمارے پاس سبز اور نیلی ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے توانائی کے وافر ذرائع اور وسائل دستیاب ہیں۔ہم ہائیڈروجن کی پیداوار میں دنیا میں قائدانہ کردار ادا کرسکتے ہیں۔‘‘

سعودی عرب دنیا میں تیل کا سب سے بڑا برآمدکنندہ ملک ہے۔وہ ہائیڈروجن کا بھی سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک بننا چاہتا ہے۔اس صاف ایندھن کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اورفضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے الریاض میں نومبر2020ء میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ ’’سعودی عرب نے آلودگی سے پاک ایندھن کی پیداوار کے لیے ایک شاندار منصوبہ وضع کیا ہے۔اس کو کرۂ ارض پر ہائیڈروجن کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک کی حیثیت سے چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب قدرتی گیس کے بڑے ذخائر کا حامل ہیں اور وہ اس سے نیلی ہائیڈروجن کی بھاری مقدارپیدا کرسکتا ہے۔‘‘

وہ تب ایندھن کی ایسی شکل کا حوالہ دے رہے تھے جس کو گیس کوایک عمل سے گزارنے کے بعد بنایا جاسکتا ہے اوراس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بائی پراڈکٹ کواخذ کیا جاتا ہے۔گذشتہ سال ستمبر میں سعودی عرب نے دنیا میں پہلی مرتبہ نیلی ہائیڈروجن کا پہلا کارگو جہاز جاپان کو بھیجا تھا۔اس کوامونیا میں تبدیل کیا گیا تھا۔