.

امریکا اور یورپ کی سعودی عرب اور مآرب پر‌حوثیوں کے حملوں‌ کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور یورپی یونین کے ممالک نے یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب اور مآرب کے علاقے میں میزائل اور بمبار ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب اور یمن کے علاقے مارب پر حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت میں فرانس ، جرمنی ، اٹلی اور برطانیہ دوسرے ممالک کی آوازوں میں شامل ہے۔ انہوں‌ نے متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ یمن میں قیام امن کےلیے اقوام متحدہ کے امن مشن کا ساتھ دیں اور جنگ بندی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

بلنکن نے کہا کہ واشنگٹن اور یورپی ممالک نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے حوثی باغیوں کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔

مشترکہ یورپی امریکن بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں اپنی پختہ وابستگی کی یقین دہانی کراتے ہوئے واضح‌ کرتے ہیں کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے قابل مذمت ہیں۔امید ہے کہ یمن کے متحارب گروپ اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے امن اقدامات کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مآرب پر حوثی حملہ یمن میں انسانی بحران کو بڑھانے کا باعث بنے گا۔ بیان میں حوثیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ امن کے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور یمن میں خونی وارداتوں کو روکیں۔

بلنکن نے مزید کہا کہ واشنگٹن مآرب پر حوثی حملوں کی مذمت میں فرانس ، برطانیہ ، اٹلی اور جرمنی کے ساتھ ہے۔

یمن سے العربیہ کے نمایندے نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ یمنی فوج نے صوبہ مآرب کے سرحدی علاقوں میں نمایاں پیش قدمی کی ہے اور حوثی جنگجو اپنے ہتھیار چھوڑ کر میدان جنگ سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔

یمنی فوج کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کا مآرب میں جاری لڑائی میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ مآرب میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ ہفتوں کے دوران میں لڑائی میں شدت آئی ہے جبکہ امریکا اور اقوام متحدہ میں فریقین سے جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

یمن میں شمال میں واقع اس شہر اور گورنری پر یمنی حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ حوثی جنگجو اس پر قابض چاہتے ہیں۔ایران حوثیوں کو یمن کی قانونی حکومت کے خلاف جنگ میں ڈرونز ، میزائل اور دوسرے ہتھیار مہیا کررہا ہے اور حوثی جنگجو ان ہی سے مآرب کے علاوہ سعودی عرب میں شہری آبادیوں اور اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

مآرب میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر اور کنویں واقع ہیں۔اگر اس گورنری پر حوثی ملیشیا کا قبضہ ہو جاتا ہے تو یہ تمام قدرتی وسائل حوثی ملیشیا کے قبضے میں چلے جائیں گے۔

واضح رہے کہ مآرب میں یمن کے دوسرے علاقوں سے بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد نے پناہ لے بھی رکھی ہے۔ یہ لاکھوں افراد گذشتہ چھے سال کے دوران میں ملک کے دوسرے شورش زدہ علاقوں سے نقل مکانی کر کے مآرب میں اٹھ آئے تھے۔تب اس کو سب سے محفوظ صوبہ خیال کیا جاتا تھا۔