امریکا اور اسرائیل خطے کو درپیش خطرات پر قابو پانے کے لیے متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے سینئر ذمے داران کے درمیان جمعرات کے روز دو طرفہ تزویراتی گروپ کے پہلے ورچوئل اجلاس میں ایران کے حوالے سے اندیشے زیر بحث آئے۔ اس معاملے میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا موقف امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے مختلف ہے۔

وائٹ ہاؤس کے زیر انتظام قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہارن کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون اور ان کے اسرائیلی ہم منصب میئر بن شبات نے دونوں ملکوں کے وفود کی سربراہی کی۔

ترجمان نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ "فریقین نے مشترکہ دل چسپی کے علاقائی سیکورٹی معاملات اور اندیشوں کے حوالے سے نقطہ ہائے نظر کا تبادلہ کیا جن میں ایران کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس موقع پر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کا اظہار کیا گیا تا کہ خطے کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے"۔

گذشتہ ماہ ایک اسرائیلی ذمے دار یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل اس بات کی امید رکھتا ہے کہ ایرانی جوہری معاملے کے حوالے سے اختلاف کے سبب نیتن یاہو اور بائیڈن کے درمیان ذاتی تناؤ سے گریز کیا جائے گا اور دونوں شخصیات اس حوالے سے بات چیت کو اپنے سینئر مشیروں کے سامنے پیش کر دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں