.

اسرائیل پر ایرانی بحری جہاز پر حملے میں ملوّث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک تحقیقات کار نے اسرائیل پر بحرمتوسط میں اسی ہفتے ایک ایرانی بحری جہاز پر حملے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے جبکہ اسرائیل نے اس واقعہ کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

بحرمتوسط میں گذشتہ بدھ کو ایران کے کنٹینرشپ ’شہرِکرد‘ پر کسی دھماکاخیز چیز سے حملہ کیا گیا تھا۔اس سے جہاز کو معمولی آگ لگ گئی تھی لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ایران نے جمعہ کواس واقعہ کی اطلاع دی تھی۔

میری ٹائم سکیورٹی ذرائع نے واقعہ کے ابتدائی اشاروں کی بنیاد بتایا تھا کہ اس بحری جہاز کو جان بوجھ کر کسی نامعلوم ذریعے نے نشانہ بنایا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی نورنیوز نے واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’جغرافیائی محل وقوع اور جس انداز میں جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے،اس کے پیش نظراس بات کا قوی امکان ہے کہ دہشت گردی کی یہ کارروائی صہیونی نظام (اسرائیل) ہی نے کی ہے۔‘‘

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ’’جہاز پر تخریبی حملہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس تخریبی عمل کے ذمے داروں کی شناخت ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے۔‘‘

ایران کی سرکاری جہازراں کمپنی ارسل (آئی آر آئی ایس ایل)نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اس حملے کے ذمے داروں کی شناخت کے لیے قانونی کارروائی کرے گی۔

اس واقعہ سے دو ہفتے قبل خلیج عُمان میں اسرائیل کےملکیتی جہاز ایم وی ہیلیئس رے پر دھماکا خیز مواد سے حملہ کیا گیا تھا۔اس بم حملے میں جہاز کے زیریں حصے میں دونوں جانب سوراخ ہوگئے تھے۔اسرائیل نے ایران پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ ایران نے اس کی تردید کی تھی۔