.

سعودی عرب میں آسٹرازینیکا ویکسین کے کوئی شدید ضمنی اثرات سامنے نہیں آئے:وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں آسٹرازینیکا کی تیارکردہ ویکسین کے کوئی شدید ضمنی اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔اس ویکسین کے بعض یورپی ممالک میں سنگین ضمنی اثرات سامنے آئے ہیں اورجن لوگوں کو یہ ویکسین لگائی گئی ہے،ان میں سے بعض کے جسموں میں خون کے دھبّے بن گئے ہیں۔

لیکن سعودی عرب کی پبلک ہیلتھ اتھارٹی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’مملکت میں لائسنس یافتہ ویکسینوں کے اب تک کوئی سنگین قسم کے ضمنی اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔البتہ معمولی سے ضمنی اثرات سامنے آئے ہیں اور یہ قبل ازیں کلینیکی جانچ کے وقت بھی سامنے آئے تھے۔‘‘

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ’’بعض یورپی ممالک میں حکام نے آکسفورڈ-آسٹرا زینیکا کی ویکسین لگانے سے منع کردیا ہے اور وہ خون کے دھبّوں اور اس ویکسین میں کسی قسم کے باہمی تعلق کی تحقیقات کررہے ہیں۔‘‘

تاہم اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ابھی اس ویکسین سے کسی قسم کی پیچیدگی کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمدالعبدالعالی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے:’’ہم آپ کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ یہ ویکسین مملکت میں محفوظ ثابت ہوئی ہے اور بعض ممالک نے اس کو دوبارہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سعودی عرب میں استعمال کی جانے والی ویکسینیں محفوظ اور مؤثر ہیں۔‘‘

ڈنمارک ،آئرلینڈ ،ناروے اور بلغاریہ نے گذشتہ ہفتے آسٹرا زینیکا کی کووِڈ-19 کی ویکسین کا استعمال روک دیا تھا۔ ان ممالک نے یہ فیصلہ ویکسین لگوانے والے بعض افراد میں خون کے دھبے بننے کے بعد کیا تھا۔

تاہم برطانیہ میں قائم دواسازفرم آسٹرازینیکا نےجمعہ کو ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’ایک کروڑ سے زیادہ افراد کے سیفٹی ریکارڈ کا تجزیہ کیا گیا ہے،اس میں کسی خاص ملک میں عمر کے کسی بھی گروپ میں نظام تنفس اور شریانوں میں کسی قسم کے خطرے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔‘‘

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی بالاصرار کہا ہے کہ ویکسین اور خون کے دھبّوں میں اضافے کے درمیان کسی تعلق کا ثبوت نہیں ملا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی خاتون ترجمان مارگریٹ ہیرس نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’’ ہمیں آسٹرا زینیکا کی ویکسین کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔اس کے عدم استعمال کا تواب تک کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔‘‘