.

سلامتی کونسل کا لیبیا سے غیر ملکی افواج اور اجرتی جنگجوؤں کے انخلا کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک متفقہ اعلان میں زور دیا ہے کہ "لیبیا سے تمام غیر ملکی فورسز اور اجرتی جنگجو بنا کسی تاخیر کے نکل جائیں"۔ کونسل نے لیبیا کی پارلیمنٹ کی جانب سے ملک میں عبوری حکومت پر ظاہر کیے گئے اعتماد کا خیر مقدم بھی کیا۔

جمعے کے روز جاری اعلان میں کہا گیا کہ "سلامتی کونسل تمام فریقوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ (23 اکتوبر کو طے پانے والے) فائر بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درامد کریں۔ ساتھ ہی رکن ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ اس معاہدے کا احترام کریں اور اس کے مکمل لاگو ہونے کے لیے سپورٹ کریں"۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2020ء کے اختتام تک لیبیا میں 20 ہزار غیر ملکی فوجی اور اجرتی جنگجو موجود ہیں۔ ابھی تک کسی قسم کے انخلا کے حوالے سے نقل و حرکت دیکھنے میں نہیں آئی۔

حالیہ اعلان کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "سلامتی کونسل تمام رکن ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے تحت اقوام متحدہ کی جانب سے عائد اسلحے کی پابندی کا مکمل احترام کریں"۔

اقوام متحدہ کے نامزد مبصرین کے مطابق سال 2011ء سے عائد ہتھیاروں کی پابندی کو کئی برس سے باقاعدگی کے ساتھ پامال کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ یہ مبصرین اپنی سالانہ رپورٹ چند روز میں پیش کریں گے۔

سلامتی کونسل کے اعلان میں مزید کہا گا ہے کہ "کونسل کے مطابق مسلح جماعتوں سے ہتھیار لینے کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ان جماعتوں کو سماج میں پھر سے ضم کیا جائے ، سیکورٹی سیکٹر میں اصلاحات کی جائیں اور پورے لیبیا میں شہری قیادت کے تحت ایک جامع سیکورٹی اسٹرکچر قائم کیا جائے"۔

اس سے قبل بدھ کے روز لیبیا کی پارلیمنٹ نے قومی وحدت کی (عبوری) حکومت کو اعتماد کا ووٹ دیا۔ اس حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ ہیں۔ اس حکومت کی اہم ترین ذمے داریوں میں آئندہ دسمبر میں عام انتخابات کا اجرا ہے۔