.

‘‘حوثی باغی امریکی امن کی پیش کش کا جواب اپنے حملوں میں تیزی سے دے رہے ہیں’’

سعودی قیادت یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں کو ’مکمل مدد‘ فراہم کر رہی ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی ٹم لینڈر کنگ کا کہنا ہے کہ یمن میں جنگ بندی کے لیے ایک ’ٹھوس منصوبہ‘ کئی دنوں سے حوثی باغیوں کی قیادت کے سامنے رکھا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حوثی باغی مآرب کے حصول کے لیے فوجی کارروائی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سعودی قیادت یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں کو ’مکمل مدد‘ فراہم کر رہی ہے۔

ٹم لینڈر کنگ نے تھنک ٹینک ایٹلانٹک کونسل کو بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی ’جنگ کو معطل کرنے اور یمنی شہریوں کو ریلیف دینے‘ کے بجائے مآرب کو لینے کی مہم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے مزید کہا کہ ’امریکہ اور اقوام متحدہ۔ حوثیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ جواب دیں۔‘

انھوں نے کہ اگر ابھی ہم نے پیش رفت نہیں کی تو یہ ملک مزید تنازعات اور عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے شمالی یمن کے لیے مالی امداد بحال کر دی ہے۔ اقوام متحدہ نے یمن کو دنیا کا ’بدترین انسانی بحران‘ قرار دیا ہے۔