.

امریکہ، یو این کے ساتھ مل کر یمنی بحران حل کی سفارتی کوششیں تیز کرے گا: دفتر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے یمن میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس سے ٹیلی فون پر بات چیت میں انہوں نے زور دیا کہ ایک متحدہ ، مستحکم اور مداخلتوں سے آزاد یمن کے لیے امریکا کی سپورٹ جاری رہے گی۔

اس سے قبل حوثی ملیشیا نے گذشتہ ہفتے یمن کے لیے امریکی ایلچی ٹم لنڈرکنگ کی جانب سے پیش کیے گئے حل کو مسترد کر دیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کے روز جاری بیان میں اینٹنی بلنکن نے یمن میں جنگ کے خاتمے کے واسطے امریکی اور بین الاقوامی کوششوں کی اہمیت کو باور کرایا۔

اس سے قبل یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ یمن میں فائر بندی کا ٹھوس منصوبہ حوثیوں کو پیش کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ امریکی ایلچی ٹم لینڈرکنگ کے مطابق وہ یمن میں تنازع کے حل کے واسطے سعودی عرب ، یمنی حکومت اور دیگر فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا نے شمالی یمن میں انسانی امداد کے لیے فنڈنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب یمن کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حوثی ملیشیا نے امن کو یقینی بنانے اور یمنی عوام کے مصائب دور کرنے کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کی دعوت کا جواب مارب، تعز اور الحدیدہ میں شہریوں کے خلاف عسکری جارحیت اور نئے محاذوں کو کھولنے کی صورت میں دیا۔

واضح رہے کہ امریکا ، فرانس، جرمنی، اطالیہ اور برطانیہ نے چند روز قبل مارب شہر پر حوثیوں کے مسلسل حملوں اور بڑے پیمانے پر جارحیت کی مذمت کی تھی۔