.

عالمی برادری لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد گروپ قرار دے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو بہ حیثیت مجموعی ایک دہشت گرد گروپ قرار دے۔

امریکا نے یہ مطالبہ حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک کے ایک چار رکنی وفد کے دورۂ ماسکو کے بعد کیا ہے۔اس پارلیمانی وفد نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدہ دار نے روس کی دعوت پر حزب اللہ کے وفد کے اس دورے کی مذمت کی ہے اورکہا ہے:’’ہم تمام ممالک پر زوردیتے ہیں کہ وہ حزب اللہ کے نام نہاد عسکری اور سیاسی ونگ کے درمیان جھوٹی تقسیم کو مسترد کردیں،اس گروپ کے خلاف مجموعی طور پر کارروائی کریں اور اس کو دہشت گرد قرار دے دیں۔‘‘

محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حزب اللہ کو امریکی قانون کے تحت ایک غیرملکی دہشت گرد تنظیم اور خصوصی عالمی دہشت گرد تنظیم قراردیا گیا ہے۔‘‘

حزب اللہ کے زیر انتظام ٹی وی اسٹیشن المنار نے روس کا دورہ کرنے والے وفد کے سربراہ محمد حسن رعد کے حوالے سے کہا ہے کہ روسی وزیرخارجہ سے ملاقات میں لبنان اور شام کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ روس کے علاوہ فرانس کا بھی لبنان میں نمایاں اثرورسوخ ہے اور وہ حزب اللہ کے سیاسی ونگ کو قانونی طور پر تسلیم کرتا ہے۔

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے گذشتہ سال اگست میں بیروت میں تباہ کن دھماکے کے بعد لبنان کا دورہ کیا تھا اور ملک کی قیادت کے علاوہ حزب اللہ کے پارلیمانی لیڈر محمد رعد سے بھی ملاقات کی تھی۔

یورپی یونین بھی حزب اللہ کے عسکری اور سیاسی شعبوں میں تفریق کرتی ہے۔البتہ حالیہ برسوں میں جرمنی ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد مغربی ممالک نے حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، کویت اور بحرین سمیت خلیجی ممالک کی اکثریت نے ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قراردے رکھا ہے۔حزب اللہ کو غیرملکی سرزمین پر امریکی اہلکاروں اور فوجیوں پر ایک تباہ کن حملے کا ذمے دار قرار دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے2017ء میں حزب اللہ کودہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کےالزام میں بلیک لسٹ کردیا تھا اور اس سے وابستہ کارکنان ، لیڈروں اور اداروں پر پابندیاں عاید کرنا شروع کی تھیں۔امریکا اب تک حزب اللہ ملیشیا اور اس کے سیاسی بازوسے تعلق رکھنے والے پچاس سے زیادہ ارکان پر پابندیاں عاید کرچکا ہے۔