.

یمن سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام پرواز کے ذریعے 160 تارکینِ وطن بیرون ملک منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے اسپانسر ایک خصوصی طیارے کے ذریعے یمن سے 160 افریقی تارکین وطن کو بیرون ملک منتقل کردیا گیا ہے۔

عرب اتحاد نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یمن سے افریقی تارکین وطن کو بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ رابطے کے ذریعے پروازوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔‘‘

عرب اتحاد نے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون سے یمن سے تارکین وطن کو بیرون ملک منتقل کرنے کا فیصلہ گذشتہ ہفتے یمنی دارالحکومت صنعاء میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے زیرانتظام ایک حراستی مرکز پر بم حملے کے بعد کیا ہے۔اس حراستی مرکز میں دھماکے کے بعد آگ گئی تھی جس سے 44 تارکین وطن ہلاک ہوگئے تھے۔

انسانی حقوق کے ایک مقامی گروپ اور عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ حوثی فورسز نے 7مارچ 2021ء کو ایک حراستی مرکز پر بم داغا تھا۔اس کے نتیجے میں مرکز میں آگ لگ گئی تھی۔اس سے دسیوں افراد جھلس کر ہلاک یا زخمی ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ ترایتھوپیائی تارکینِ وطن تھے۔

بعض عینی شاہدین اور اس حملے میں زندہ بچ جانے والوں نے بتایاکہ حوثیوں نے ایک گودام کو حراستی مرکز میں تبدیل کررکھا ہے۔وہاں کی ناگفتہ بہ صورت حال اور زیر حراست افراد سے ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر حوثی محافظوں نے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے اور ان کے پھٹنے سے وہاں آگ لگی تھی۔

اس واقعے کے بعد حوثی ملیشیا نے اپنے بیان میں آگ لگنےکی وجہ بیان کی تھی اور نہ مہلوکین اور زخمیوں کی تعداد بتائی تھی۔حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی کے اہلکاروں کو بھی ان اسپتالوں میں جانےکی اجازت نہیں دی جہاں واقعے میں زخمی ہونے والے تارکین وطن زیرعلاج ہیں۔

عرب اتحاد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حوثی ملیشیا نے صنعاء میں تارکین وطن کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔یمنی حکومت نے اس سنگین جُرم کی دوٹوک الفاظ میں شدید مذمت کی تھی اور کہا تھی کہ حوثی ملیشیا نے صنعاء میں اپنے زیرانتظام جیلوں اور حراستی مراکز میں قیدیوں اور تارکینِ وطن سے نارواسلوک جاری رکھا ہوا ہے۔

واشنگٹن میں یمنی سفارت خانے نے ٹویٹر پر ایک بیان مین کہا: ’’یمنی حکومت حوثیوں کی جیلوں میں بیسیوں افریقی تارکین وطن کی ہلاکتوں کی اطلاعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے اور اس سنگین واقعہ کی پردہ پوشی پر حوثیوں کی مذمت کرتی ہے۔‘‘

اس نے مزید کہا:’’ہم عالمی برادری کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ حوثی ملیشیا نہ صرف یمنیوں بلکہ تارکینِ وطن اورہمسایہ ممالک کے شہریوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔آتش زدگی کے واقعے کے ذمے داروں کو فوری طور پرانصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔‘‘