.

روس اور ایران نے 2020 کے امریکی انتخابات کو نشانہ بنایا: امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

ایران کے مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای نے انتخابات پر اثر انداز ہونے والے سائبر حملوں کی منظوری دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور ایران نے گذشتہ برس 2020 میں ہونے والے امریکی انتخابات کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تاہم وہ اس کے حتمی نتائج پر اثر انداز ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس امر کا اعتراف امریکا کی وزارت قانون اور وزارت داخلہ نے اپنی ایک حالیہ انٹیلی جنس رپورٹ کیا ہے۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن حالیہ انتخابات میں مبینہ مداخلت کی پاداش میں آئندہ ہفتے روس کے خلاف پابندیاں عاید کرے گا۔

دونوں امریکی وزارتوں [داخلہ اور قانون] کی مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے ’’کہ روس اور ایران کے وسیع البنیاد حملوں میں امریکی انتخابی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جس سے انتخابی ذمہ داریاں ادا کرنے والے سیکیورٹی نیٹ ورکس متاثر ہوئے۔‘‘

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ’’اس مداخلت کا ووٹروں کی رائے پر کوئی عملی اثر نہیں ہوا اور نہ ہی اس مداخلت کا ووٹوں کی گنتی اور بروقت نتائج کے اعلان کی صحت پر کوئی اثر ہو سکا۔

رپورٹ کے مطابق روس، ایران اور چین کی حکومتوں کے ماتحت اداروں نے مادی طور پر امریکی سیاست، امیدواران اور ان کی انتخابی مہم کی سیکیورٹی اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ ’’ان گروپوں نے امریکی سیاسی نظام سے متعلق ایسا معلومات جمع کر رکھی تھیں کہ جنہیں ووٹنگ پراسس پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جانا تھا لیکن ایسا کرنے سے گریز کیا گیا۔

امریکی رپورٹ کی روشنی میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ سازشی نظریہ اپنی موت آپ مر گیا جس میں ان کے وکیل یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وینرویلا سے تعلق رکھنے والی ووٹ گننے والی ایک کمپنی نے جو بائیڈن کے حق میں ووٹوں کی گنتی میں ہر پھیر کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان دعوؤں کی تحقیقات کی گئیں جس کے مطابق ’اس قسم کی مداخلت نہ ہونے کے برابر تھی۔‘‘

رپورٹ تیار کرنے والوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے امریکی انتخابی عمل کی سیکیورٹی اور اس میں پائی جانے والی شفافیت پر غیر ملکی حکومتوں کے اثرات کا جائزہ لیا جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچنے ہیں کہ ’’انہیں وٹروں کی رائے اور عوامی فیڈ بیک جیسے امور پر غیر ملکی حکومتوں کے کسی قسم کے اثرات دکھائی نہیں دیے۔ اور نہ ہی انہیں سائبر کریمنل کی طرز پر غیر حکومتی عناصر کا کوئی کردار دکھائی دیا۔‘‘

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ڈیموکریٹک سربراہ مارک وارنر نے بتایا کہ رپورٹ میں ’’ہمارے مخالفین کی انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی مسلسل کوششوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔‘‘ مسٹر وارنر کے بقول ’’روس نے صرف 2020 ہی کے انتخابات میں نہیں بلکہ 2016 کو ہونے والے انتخابات پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ امریکی کی منقسم سیاسی جماعتوں کے تناظر میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی غیر ملکی کوششیں ختم نہیں ہوں گی۔ امریکا میں مواقف ماحول دیکھ مستقبل میں بھی ایسی کوششیں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔‘‘

امریکی خفیہ رپورٹ تک رسائی رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ کیوبا، وینزویلا اور حزب اللہ نے امریکا کے 2020 انتخابات کی مہم پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ رپورٹ میں ایران کے بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کی جانب نشاندہی کی گئی ہے جن میں گذشتہ صدارتی انتخاب کا مرحلہ اس کا خصوصی ہدف رہا۔

رپورٹ میں اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ نے خصوصی طور پر سائبر حملوں کی ہدایت جاری کی۔ امریکی شہریوں کو ایران سے دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے سوشل میڈیا پر امریکا میں کرونا، کمزور اقتصادی صورت حال اور کمزور پہلوؤں شہریوں میں پائی جانے بے چینی جیسے نقاط پر توجہ مرکوز رکھی۔

انھوں [ایرانیوں] نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پروپیگنڈا کیا، جسے بعد میں سوشل میڈیا فرموں نے ختم کیا۔ اس سے پہلے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز 2012 میں ایسے متعدد جعلی اور بے نامی اکاؤنٹس ختم کر چکے ہیں۔