.

سعودی عرب سمیت کئی ممالک کے ساتھ دفاعی شراکت کو وسعت دیں گے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے منگل کو باور کرایا ہے کہ ملک میں ابھی بھی دہشت گردی کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ہم سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کے ساتھ سلامتی اور دفاعی شراکت قائم کریں گے۔

برطانیہ نے اپنی نئی دفاعی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے ایک نیا صدر دفتر قائم کرے گا جس کے تحت دہشت گردی سے لاحق اہم خطرے کے بارے میں اپنے رد عمل کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک دھائی میں کیمیائی ، حیاتیاتی یا ایٹمی حملہ بھی ہوسکتا ہے۔

ایک جامع جائزہ میں جو بریکسٹ کے بعد کے دور میں ملک کی سیاسی ترجیحات کا خاکہ پیش کرتا ہے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں برطانوی حکومت نے کہا کہ برطانیہ کے شہریوں اور برطانوی مفادات کو انتہا پسندوں کے ساتھ انتہائی دائیں بازو اور انتشار پسندوں سے بہت بڑا خطرہ ہے۔ برطانیہ کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے بارے میں کہا گیا کہ چین کی طرف سے ’سسٹیمک چیلنج‘ پر بھی زیادہ کام کیا جائے گا۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ملک کے دارالعوام میں نئی خارجہ پالیسی کے خدو خال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ بریگزٹ کے بعد ملک کو مخالف اقدار رکھنے والے ممالک کا مقابلہ کرنے کا فن از سر نو سیکھنا ہو گا۔

آئندہ ایک دھائی کے دوران برطانیہ نے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کا بھی فیصلہ کیا جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کا دفاعی اتحاد اور یورپ میں امن اور سکیورٹی کا قیام برطانیہ کی اہم ترجیحات میں شامل رہے گا۔

اس سے پہلے سنہ 2010 کے ایک منصوبے کے تحت جوہری ہتھیاروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کم کر کے 180 کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اب کہا گیا ہے کہ یہ حد 260 ہو گی۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ بحرِ ہند اور بحر الکاہل کے خطے میں سٹریٹجک اتحاد کو فروغ دے گا اور اسے 'دنیا کے جغرافیائی-سیاسی مرکز میں تیزی سے بنتا ہوا' مرکزی خطہ قرار دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمالی آئر لینڈ میں مخالفین کی طرف سے بھی خطرہ ہے جو برطانوی علاقے میں امن معاہدے کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں ، جس پر 1998 میں دستخط ہوئے تھے۔