.

چین جارحیت اور کریک ڈاؤن کی روش پر عمل پیرا ہے : امریکی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کا کہنا ہے کہ چین اپنے تصرفات میں زیادہ وسیع پیمانے پر زیادتی اور کریک ڈاؤن کا مظاہرہ کر رہا ہے ،،، متاثرہ علاقوں میں بحر چین کے مشرق اور جنوب میں واقع علاقے شامل ہیں۔

آج بدھ کے روز ٹوکیو میں جاپانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بیجنگ اپنی بحری کارروائیوں اور تائیوان کے حوالے سے موقف کے ذریعے خطے میں کشیدگی کو جنم دے رہا ہے۔

بلنکن نے واضح کیا کہ "بیجنگ اندرون ملک زیادہ سخت کریک ڈاؤن اور بیرون ملک زیادہ جارحیت کی روش پر عمل پیرا ہے۔ ان متاثرہ علاقوں میں بحرِ چین کے مشرقی اور جنوبی حصے کے علاوہ تائیوان بھی شامل ہے"۔

اس سے قبل منگل کے روز امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر ذمے دار نے ٹیلی فون کے ذریعے ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ چین کے حوالے سے ایک "سخت" متحد موقف اپنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو اس بات کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی کہ وہ امریکی حکومت میں مختلف فریقوں کے درمیان اختلاف کو جنم دے۔ واشنگٹن چین کے سینئر ذمے داران کے ساتھ ٹھوس بات چیت کرے گی اور چین کے رویّے کے حوالے سے اپنے اندیشوں کا اظہار کرے گی۔ ان میں ہانگ کانگ کے معاملے کے علاوہ سنک یانگ صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بیجنگ کی جانب سے جاری شرپسند سائبر سرگرمیوں کے امور شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن
امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن

امریکا اور جاپان نے چین کو اس کے رویّے کے حوالے سے خبردار کیا جو عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ یہ موقف منگل کے روز دونوں ملکوں کے درمیان اعلی سطح کی سفارتی اور دفاعی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس بات چیت کا مقصد چین کے بڑھتے ہوئے نفوذ کے خلاف اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لائڈ اوسٹن اور وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن دونوں نے اپنا پہلا بیرونی دورہ پیر کے روز جاپان میں شروع کیا۔ اس کا مقصد چین کو پیغام پہنچانا ہے۔

جاپان کے بعد دونوں امریکی عہدے داران جنوبی کوریا کا رخ کریں گے۔