.

ترک صدر ایردوآن کے محافظ دستے میں شامل سکیورٹی افسر کی توہین آمیز سلوک پر خودکشی 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے محافظ دستے میں شامل ایک سکیورٹی افسر نے کام کے دوران میں خود سے توہین آمیز سلوک پر خودکشی کر لی ہے۔

ترکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق متوفیٰ نے اقدام خودکشی سے قبل ایک تحریر چھوڑی ہے اور اس میں لکھا ہے کہ اس کے ساتھ فرائض کی انجام دہی کے دوران میں توہین آمیز سلوک کیا جارہا تھا اور دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

ترک اخبار جمہوریت نے صدر ایردوآن کے محافظ دستے میں کام کرنے والے اس باڈی گارڈ کی شناخت محمد علی بلوط کے نام سے کی ہے۔وہ بدھ کو اپنی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوا اور اس کا فون بند جارہا تھا۔اس کے بعد صدارتی محافظ دستے میں شامل اس کے ساتھیوں نے اس کے اقامتی اپارٹمنٹ سے نعش برآمد کی ہے۔اس کے ساتھ اس کی تحریر لکھی ہوئی ملی ہے۔

ترک اخبار احوال کی رپورٹ کے مطابق اس نے لکھا ہے:’’میری یہ خواہش ہے، آپ نے اپنے ملازمین کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہوتا اور ان سے یہ پوچھا ہوتا کہ وہ کیسے ہیں۔یہ اس سے بہتر ہوتا کہ آپ اپنے اہلکاروں کی توہین کرتے ہیں،انھیں دھمکیاں دیتے ہیں ،انھیں ملازمت سے فارغ کردیتے ہیں، ان کی بے توقیری کرتے ہیں اور انھیں جھوٹا بنانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔

محمد بلوط نے مزید لکھا:’’ ہر شخص کا ایک وقار اور عزت ہے اور میں ان توہین آمیز الفاظ کو ہضم نہیں کرسکتا‘‘۔وہ اس سال میں خودکشی کرنے والے تیسرے سکیورٹی افسر ہیں۔ان سے پہلے دو سکیورٹی افسروں خلیل عقایا اور اثیم داغدویرین نے خودکشی کر لی تھی۔

’’احوال‘‘ نے ترک حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کے ایک رکن پارلیمان مراد بقان کا ایک تبصرہ بھی شامل اشاعت کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ یہ بچّے اپنی زندگیوں کے عروج کے دنوں میں پولیس افسر بننا چاہتے ہیں لیکن پھر وہ خودکشی کرلیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا چیز انھیں اپنی ہی جان لینے پر مجبور کردیتی ہے۔‘‘انھوں نے سکیورٹی افسروں کی خودکشیوں سے متعلق ایک انکوائری رپورٹ بھی پارلیمان میں پیش کی ہے۔