.

بحری جہازوں کی جنگ، وہ راز جس پر اسرائیل اور ایران دونوں نے پردہ ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آتا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بحری جہازوں کی جنگ، اس سے متعلق خبریں پڑھنے والے عام قاری کے تصور سے کہیں زیادہ دور ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ حالیہ عرصے میں ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واسطے 12 حملے کیے گئے۔

ایک اسرائیلی عسکری تجزیہ کار کے مطابق اسرائیل نے بحر احمر کے جنوب سے لے کر شام کے شمالی ساحل تک کئی ٹھکانوں پر ایران کے تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم فریقین نے اس موضوع پر پردہ ڈالے رکھا۔ ایک طرف اسرائیل نے امریکی اخبار کی معلومات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تو دوسری طرف ایران نے بھی خاموشی سادھے رکھی۔

اسرائیلی اخبار ہآرٹز نے گذشتہ روز ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں خاموشی سے کی گئیں۔ اس دوران دھماکے یا میزائل کے بغیر سکون سے ان جہازوں کے اہم مقامات کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسرائیلی بحریہ نے ایرانی تیل بردار جہازوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے گریز کیا تا کہ یہ حملے ریڈار میں نہ آئیں۔

اسرائیلی اور مغربی انٹیلی جنس اداروں نے ڈھائی سال سے ایران کی جانب سے تیل کی اسمگلنگ کے راستوں اور کارروائیوں کا انکشاف کیا ہوا تھا۔ یہ اسمگلنگ بڑے ٹینکروں کے ذریعے ہو رہی تھی جو ایران کے جنوب میں واقع بندرگاہوں سے چلتے تھے۔