.

خامنہ ای کی دولت اور جنگی جرائم کی تحقیقات، امریکی کانگریس میں قانونی بل پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں ریپبلکن رکن جو ویلسن نے ایران میں انسانی حقوق کی سپورٹ کے لیے ایک بل پیش کیا۔ اس بل میں امریکی صدر جو بائیڈن پر اس بات کا جائزہ لینے پر زور دیا گیا ہے کہ آیا تہران اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

جو ویلسن کے پیش کردہ قانونی بل کے مسودے میں ایران کو شام، عراق، یمن اور لبنان میں خلاف ورزیوں کا ذمے دار ٹھہرانے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح ریپبلکن رکنِ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کی دولت سے متعلق تفصیلی رپورٹ سامنے لائی جائے۔

اپنی ٹویٹ میں ویلسن نے کہا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ایرانی عوام آزادی کے ساتھ زندگی گزاریں اور انہیں بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوں۔

معلومات کے مطابق ویلسن کے پیش کردہ قانونی بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب ذمے داران کا تعین کیا جائے۔ ان میں رہبر اعلی اور سینئر وزراء شامل ہیں۔ مزید یہ کہ شام، عراق، یمن اور لبنان میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث افراد کا محاسبہ کیا جائے۔

ساتھ ہی یہ تحقیق بھی کی جائے کہ آیا ایران کے رہبر اعلی نے اپنی دولت بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل کی۔

یاد رہے کہ نومبر 2019ء میں ایران کے زیادہ تر صوبوں میں وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج پھیل گیا تھا۔ اگرچہ اس دوران بڑے پیمانے پر مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوئے تاہم ملک میں کسی بھی ذمے دار کا محاسبہ عمل میں نہیں آیا۔