.

خطے میں بدامنی کا باعث بننے والے ہر اقدام کو مسترد کرتے ہیں: فرانسیسی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں متعین فرانسیسی سفیر' لڈوووک پوؤ' نے الریاض میں کل جمعہ کے روز ایک آئل ریفائنری پر ڈرون سے کیے جانے والے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے آئل ریفائنری پر حملے کو دہشت گردانہ اور تخریب کاری کا اقدام قرار دیا۔

ایک بیان میں فرانسیسی سفیر کا کہنا تھا کہ پیرس بار بار واضح‌کر چکا ہے کہ خطے میں بدامنی کا باعث بننے والا کوئی بھی اقدام نا قابل قبول ہوگا۔

جمعہ کے روز سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کے ایک سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ ریاض میں آئل ریفائنری پر حملے سے مملکت میں تیل کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی اور اس حملے میں‌ کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔

وزارت توانائی کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ جمعہ کی صبح 6 بجکر 5 منٹ پر ریاض میں آئل ریفائنری پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق اس حملے میں تیل کی رسد متاثر نہیں ہوئی۔

وزارت توانائی نے زور دیا کہ مملکت اس بزدلانہ حملے کی پر زور مذمت کرتی ہے۔ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں میں دشمن عناصربار بار اہم تنصیبات اور سویلین شہریوں کو اپنی بزدلانہ کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا مرتکب ہو رہےہیں۔ اس طرح کی تخریب کاری راس تنورا ریفائنری اور سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کی کوششیں تیل کی عالمی رسد کو نشانہ بنانا اور سعودی عرب کی عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے سعودی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔

جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔