.

امریکا: ایران نواز عراقی ملیشیاؤں پر پابندیوں کا قانون پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی خارجہ پالیسی کی قیادت نے جمعے کے روز دو قوانین کے بل پیش کیے۔ ان کا مقصد عراق میں ایرانی ملیشیاؤں پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنا اور تہران پر عائد پابندیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ اس طرح جوہری معاہدے کی پیروی کے لیے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی جا سکے گی۔ یہ بات امریکی اخبار 'فِری بیکن' نے بتائی۔

مذکورہ دونوں قوانین عراق میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح جماعتوں کو سرکاری طور پر دہشت گرد قرار دیں گے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں۔ ان شخصیات میں رہبر اعلی علی خامنہ ای شامل ہیں۔

کانگریس میں ریپبلکن قانون ساز تہران اور یورپی قوتوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امریکی قانون سازوں کا ایک بڑا حصہ جو بائیڈن انتظامیہ کی سفارت کاری کی مخالف ہے ،،، اور وہ آنے والے ہفتوں یا مہینوں میں ممکنہ طور پر اٹھائی جانے والی کسی بھی پابندی کو دوبارہ عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیش رفت کسی بھی جوہری سمجھوتے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے.

کچھ عرصہ قبل کم از کم 70 ڈیموکریٹس ارکان نے صدر جو بائیڈن کو بھیجے گئے تحریری پیغام میں زور دیا تھا کہ وہ ایران پر عائد پابندیوں کو جوہری معاہدے کے حوالے سے بات چیت کے لیے پیشگی شرط کے طور پر نہ اٹھائیں۔

امریکی کانگریس میں جمعے کے روز پیش کیے جانے والے دونوں قوانین میں سے پہلے کا متن ریپبلکن رکن گریگ اسٹیوب نے جب کہ دوسرے قانون کا متن جو ویلسن نے تحریر کیا ہے.

ویلسن نے امریکی اخبار Free Beaconکو بتایا کہ "یہ بات غیر اخلاقی اور ہماری تزویراتی مصلحت کے خلاف ہو گی کہ محض ایرانی نظام کے ساتھ مذاکرات یا ایران کے ساتھ ایک بار پھر ناکام سمجھوتے میں شامل ہونے کے واسطے ،،، ایرانی عوام کو ایک بار پھر روندنے کے لیے ڈال دیا جائے"۔