.

صنعاء میں حوثی ملیشیا کی انتظامیہ کے ٹرانسپورٹ وزیر زکریا الشامی کی پُراسرار موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا کی انتظامیہ میں ٹرانسپورٹ کے وزیر زکریاالشامی پُراسرار حالات میں چل بسے ہیں۔

ان کی موت کے وجوہ کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔حوثی حکام کا کہنا ہے کہ زکریا الشامی کووِڈ-19 کا شکار ہوگئے تھے۔ وہ صنعاء میں ایک اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں اتوار کو ان کی موت واقع ہوگئی ہے۔اسی اسپتال میں حوثی انتظامیہ کے وزیراعظم عبدالعزیز بن حبتور اور کووِڈ-19 کا شکار ہونے والے دوسرے اعلیٰ عہدے دار زیر علاج ہیں۔

حوثیوں کے منصوبہ بندی کے وزیر عبدالعزیز القمیم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں زکریا الشامی کی موت کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ ان کی موت کب اور کیسے ہوئی تھی۔

العربیہ کو الشامی کی موت سے متعلق دو متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔بعض ذرائع کے مطابق الشامی اور حوثی ملیشیا کے دوسرے لیڈر صنعاء میں عرب اتحاد کے لڑاکا جیٹ کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔اس وقت وہ ایک اجلاس میں شریک تھے۔عرب اتحاد کے لڑاکا جیٹ نے اتوار کو یمنی دارالحکومت کے فوجی اہداف پر بمباری کی ہے۔

بعض دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے کسی دوسرے لیڈر نے قاتلانہ حملہ کیا تھا اور وہ اس میں مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ صنعاء میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی تحریک کا کنٹرول ہے اور اس نے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے جبکہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدردفاتر عدن میں قائم ہیں۔