.

عرب اتحاد کے صنعاء،الحدیدہ اور عمران میں حوثی ملیشیا کے فوجی اہداف پرفضائی حملے 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے فوجی اہداف پر اتوار کی صبح حملے کیے ہیں اور ان میں حوثیوں کے بیلسٹک میزائلوں اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے صنعاء کے علاوہ الحدیدہ اور عمران میں بھی حوثیوں کے اہداف پر بمباری کی ہے۔

عرب اتحاد نے یہ فضائی حملے سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی جانب حوثی ملیشیا کے ڈرون حملے کے ایک روز بعد کیے ہیں۔عرب اتحاد نے ہفتے روز اس بارود سے لدے ڈرون کو تباہ کردیا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عرب اتحاد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب میں شہری اہداف اور شہریوں کو ڈرون اور میزائل حملوں میں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے بہت سے ڈرونز اور میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کردیا ہے۔

جمعہ کی صبح حوثی ملیشیا نے سعودی دارالحکومت الریاض میں واقع تیل صاف کرنے کے ایک کارخانے کو ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا۔اس حملے میں ریفائنری کے ایک حصے میں آگ لگ گئی تھی لیکن سعودی حکام نے اس پر جلد قابو پا لیا تھا۔

اس ڈرون حملے میں کوئی شخص زخمی ہوا تھا اور نہ ریفائنری سے تیل کی سپلائی معطل ہوئی تھی۔اس سے نکلنے والی پائپ لائنوں سے بھی سپلائی جاری رہی تھی۔

سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹوآفیسرامین الناصر نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے کے بعد ریفائنری میں معمولاتِ کار بحال ہوچکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ سعودی آرامکو کے پاس کسی بھی طرح سے حملے سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبے تیار ہیں۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گذشتہ ایک ماہ سے سعودی عرب کے شہروں اور شہری اہداف پر حملے تیز کررکھے ہیں۔ انھوں نے سات مارچ کو سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی بندرگاہ راس تنورہ پر متعدد ڈرونز سے حملہ کیا تھا اورمملکت کے مشرق میں واقع شہر ظہران میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کوبیلسٹک میزائل کے حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

لیکن سعودی فورسز نے ان میں سے بیشتر ڈرونز کو تباہ کردیا تھا۔سعودی حکام کے مطابق راس تنورہ کی بندرگاہ پر پیٹرولیم کے ایک ٹینک پر سمندر سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا اور ظہران میں سعودی آرامکو کے اقامتی علاقے میں بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے گرے تھے۔حکام کے مطابق ان دونوں حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔