.

سعودی عرب کا نیا’یمن امن اقدام‘ ماضی کے منصوبوں کا تسلسل ہے:نائب وزیردفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کا یمن میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے نیا امن اقدام ماضی میں پیش کردہ منصوبوں اور تجاویز کاتسلسل ہے اور یہ اس کی یمن میں سلامتی اور استحکام کے لیے دلچسپی کا بھی مظہر ہے۔

یہ بات سعودی عرب کے نائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے سوموار کو سلسلہ وار ٹویٹس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب یمن میں امن کا قیام چاہتا ہے۔حالیہ اعلان ماضی کی بحران کے خاتمے کے لیے خلیج اقدام سے تمام مشاورتی کوششوں تک تجاویز کاتسلسل ہے تاکہ ایک جامع سیاسی حل تک پہنچا جاسکے۔‘‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’’نیا امن اقدام سعودی عرب کی یمن میں استحکام اور اس کی تمام یمنی دھڑوں کو متحد کرنے کی کوششوں کا بھی مظہر ہے تاکہ ان کی قومی ترجیحات کواوّلیت دی جاسکے۔‘‘

شہزادہ خالد نے کہا کہ ’’نئے امن اقدام کا مقصد یمنی عوام کو درپیش مسائل ومصائب کا خاتمہ ہے۔ یہ حوثیوں کو ایک موقع مہیّا کرتا ہے کہ وہ یمن اور اس کے معززعوام کے مفادات کو ایران کے توسیع پسندانہ عزائم پر ترجیح دیں۔‘‘

انھوں نے ان ٹویٹس میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’’حوثی اس امن منصوبہ کو فوری طور پر تسلیم کرلیں اور تمام یمنی فریقوں کے درمیان امن کے لیے مشاورت کا عمل شروع کریں تاکہ ایک جامع اور پائیدار سیاسی حل کے لیے پیش رفت کی جاسکے۔‘‘

نائب وزیردفاع نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ’’ہم اپنے وطن، اس کی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع جاری رکھیں گے۔ہم حوثیوں کی جارحیت کے مقابلے میں یمنی حکومت اور اس کی مسلح افواج کی حمایت جاری رکھیں گے۔ہم اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اگر حوثی اس امن منصوبہ کو تسلیم کرلیتے ہیں تو ہم اقوام متحدہ کی نگرانی اور مانیٹرنگ میں اس پر عمل درآمد کو تیار ہیں۔‘‘

قبل ازیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے یمن میں جاری جنگ ، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے درمیان بحران کے خاتمے کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا ہے۔

انھوں نے دارالحکومت الریاض میں ایک نیوزکانفرنس میں اس امن تجویز کے خدوخال بیان کیے ہیں۔اس کے تحت اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمن بھر میں جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھاکہ ’’ اگر دونوں فریق اس ڈیل سے متفق ہوجاتے ہیں تو صنعاء کے ہوائی اڈے کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور الحدیدہ کی بندرگاہ کے ذریعے یمن میں ایندھن اور خوراک کو درآمد کیا جاسکے گا۔‘‘