.

خلیج عرب امریکی بحری بیڑے اور افواج سے خالی کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر ہم دنیا کے نقشے پر امریکی افواج کی تعیناتی کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وسطی خطہ ، جس میں مشرق وسطی شامل ہے وہ واحد فوجی خطہ ہے جس میں طیارہ بردار بحری جہاز موجود نہیں ہے۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ اس خطے کا سب سے قریب ترین امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "آئزن ہاور" ہے۔ یہ ایک ہفتے سے زیادہ دونوں سے چھٹے آپریشنل فلیٹ اور بحیرہ روم کے آپریشن زون میں ہے۔

کچھ دن پہلے امریکی نیول گروپ "میک کین آئلینڈ" نےامریکی بحری طاقت کو خلیج میں کم سے کم کرنے کے بعد کوچ کا فیصلہ کیا۔ امریکی بحریہ کے کمانڈر ریبکا ریبارش نے العربیہ اور الحدث چینل کو بتایا کہ جہاز نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری بیڑہ کارل براشیئر جہاز کے ساتھ خطے کے دوسرے اتحادی ممالک کی مدد اور آپریشنز میں شمولیت کے لیے خلیج سے باہر نکلا ہے۔

لیکن اس نے اس گروپ سے خلیج سے باہر ہونے کے بعد خطے میں امریکی فوج کی طاقت اور اس کی ضرورت سے متعلق سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

دو دن بعد میرین کمانڈر رابرش نے اعلان کیا کہ اس گروپ نے بحر عمان اور بحیرہ عرب میں بحری ہتھیاروں میں جاپان ، بیلجیئم اور فرانس کی افواج کے ساتھ آپریشنز میں حصہ لیا ہے۔

متعدد ممالک کی مشترکہ بحری فورس اعلی صلاحیتوں کی حامل ہے۔ ان کے پاس فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز "چارلس ڈی گول" بھی شامل ہے۔ پانچویں بیڑے کے ترجمان کے مطابق خطے کی سلامتی اور نیوی گیشن اور تجارت کی آزادی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مشقیں کر رہی ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ ان کارروائیوں کو ایرانی طرز عمل سے نمٹنے کے لیے ہدایت دی گئی ہے۔اس سے قبل ایرانیوں نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں تجارتی جہازوں پرحملہ کیا تھا۔

امریکی صدر جوبائیڈن
امریکی صدر جوبائیڈن

خلیج عرب میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی عدم موجودگی نے سوالات پیدا کیے ہیں۔ سب سے پہلے یہ ہے کہ کیا امریکی سیاسی قیادت تہران کو یقین دلانے کے لیے جان بوجھ کر ایران سے طیارہ بردار بحری جہاز کو ہٹا رہی ہے اور تاثر یہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن صرف ایرانی حکومت کے ساتھ ہی ڈپلومیسی استعمال کرنا چاہتے ہیں؟۔ امریکا کی عسکری قیادت ایران کی طرف سے خطرات پر مسلسل بات کی جاتی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک بیان میں العربیہ اور الحدث کے ایک سوال کے جواب میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزارت دفاع وقتا فوقتا دنیا بھر میں فوجی تعیناتی کا جائزہ لیتی ہے اور ضروریات کے پیش نظر ایڈجسٹمنٹ بھی ،آپریشنل ماحول میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔

العربیہ اور الحدیدہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان دنوں خلیج عرب کے خطے میں فوج کی تعیناتی کے معاملے میں امریکی نقطہ نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی پالیسی براہ راست ایرانی خطرے کے تناظر میں تیار کی جاتی ہے تاہم موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن ایران کے ساتھ جاری تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہیں۔