.

منصوعی ذہانت کی مدد سے کووڈ 19 کی محفی علامات کی نشاندہی کرنے والا پہلا آلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیز ترین ویکسینز کی تیاری کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس سے متعلق متعدد ٹکنالوجیز پر کام کیا گیا ہے۔

ان ٹیکنالوجیز میں لیبارٹری میں تیار کردہ مونوکلونل اینٹی باڈیز، کرسپر جین ایڈیٹنگ ٹکنالوجی پر مبنی ریپڈ ٹیسٹ اور دیگر شامل ہیں۔

اب امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے پہلے اے آی ٹکنالوجی پر مبنی ایسی ڈیوائس کی منظوری دی ہے جو کوویڈ 19 کے ایسے مریضوں میں مرض کی نشانیوں کی نشاندہی کرسکتی ہے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

ٹائیگر ٹیک کووڈ پلس مانیٹر نامی یہ ڈیوائس آرم بینڈ کی طرح ہے جس میں لائٹ سنسرز اور ایک چھوٹے کمپیوٹر پراسیسر موجود ہیں جو وائرس کی مختلف نشانیوں پر نظر رکھتا ہے۔

ان نشانیوں میں hypercoagulation بھی شامل ہے جو کوویڈ کا عام مسئلہ ہے جس کے باعث بلڈ کلاٹس کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

اس ڈیوائس کو کسی فرد کے بازو سے منسلک کردیا جاتا ہے جس کے بعد سنسرز خون کی روانی سے نبض کے سگنلز اکٹھے کرنے لگتے ہیں۔

اس کے بعد پراسیسر اہم معلومات کو ایک جگہ جمع کرتا ہے اور مشین لرننگ ماڈل سے گزارتا ہے۔ اس طرح یہ ڈیوائس وائرس کی چھپی نشانیوں کی نشاندہی مختلف رنگوں کی روشنی کے ذریعے کرتی ہے۔

ایف ڈی اے نے بتایا کہ یہ آرم بینڈ کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے نہیں اور عام ٹیسٹ کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسے علامات والے مریضوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس کی بجائے یہ بیک اپ یا احتیاط کے طور پر درجہ حرارت چیک کرنے کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ بغیر علامات والے مریضوں میں عموماً جسمانی درجہ حرارت معمول پر ہوتا ہے۔

ایف ڈی اے نے بتایا کہ دونوں اسکریننگ ٹولز کو استعمال کرکے وائرس کے پھیلاؤ کو عوامی مقامات پر روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس آرم بینڈ کی آزمائش ہسپتالوں اور اسکولوں میں کی گئی تھی اور ہر جگہ ملتے جلتے نتائج سامنے آئے تھے۔

ہسپتالوں میں اس ڈیوائس نے کووڈ 19 کی نشانیوں کو 98.6 فیصد تک درست شناخت کیا تھا جبکہ اسکولوں میں یہ شرح 94.5 فیصد رہی تھی۔