.

ایران کو تیل کے بدلے میں پانی مہیا کریں گے: اشرف غنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور افغانستان کے درمیان کئی تنازعات اور حل طلب مسائل میں پانی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر آبی وسائل پر قبضے کا الزام عاید کرتے ہیں۔ کل بدھ کے روز ایران کی سرحد کے قریب ضلع نیمرز میں افغان صدر اشرف غنی نے کمال خان ڈیم کا افتتاح کیا۔ یہ افتتاح ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دوسری طرف تہران اور کابل کے درمیان آبی وسائل کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ آج کے بعد ہم ایران کو تیل کے بدلے میں پانی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چار سال قبل 48 ملین ڈالر مالیت سے تیار ہونے والے ڈیم سے کسی پڑوسی ملک کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدیوں سے ہلمند کا پانی افغانستان سے نکلتا ہے مگر آج افغانیوں نے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے مسئلے پر طے پائے معاہدے کے تحت بھی ہم اس پانی کو استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران اور افغانستان کے درمیان کئی دریائوں کے پانی پر دعوے کیے جاتے ہیں۔ ایران سے نکلنے والے متعدد دریا عراق میں‌گرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تہران اور بغداد کے درمیان بھی تنازع موجود ہے اسی طرح افغانستان سے پھوٹنے والے دریا ایران میں گرتے ہیں اور ان دونوں‌ پڑوسی ملکوں کے درمیان بھی تنازعات ہیں۔