.

نہر سویز میں پھنسے دیو ہیکل بحری جہاز کو نکالنے کے لیے مصر کی کوششیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں نہر سویز میں پھنسے ہوئے ایک دیو ہیکل مال بردار بحری جہاز کو نکالنے کی کوششیں آج جمعے کے روز بھی جاری ہیں۔ بدھ کے روز سے پھنسے ہوئے اس کنٹینر جہاز نے یورپ اور ایشیا کے درمیان اہم تجارتی بحری گزر گاہ کو مسدود کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے مشیر برائے نہر سویز مہاب ممیش کے مطابق نہر سویز میں بحری جہاز رانی آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں میں دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

نہر سویز اتھارٹی نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ پھنسے ہوئے بحری جہاز "ایور گرین" کی لمبائی 400 میٹر ہے۔ اس نے نہر کو مکمل طور پر مسدود کر دیا ہے۔

اس سے قبل ہالینڈ کی کمپنی "اسمتھ سیلویج" کا کہنا تھا کہ پھنسے ہوئے جہاز کو پھر سے رواں دواں کرنے کے عمل میں کئی روز یہاں تک کہ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ جہاز کے آپریٹنگ گروپ "ایور گرین میرین کورپ" نے پھنسے ہوئے جہاز کو دوبارہ گامزن کرنے میں مدد کی ذمے داری مذکورہ ڈچ کمپنی کو سونپی ہے۔

بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ویب سائٹ پر جاری تعاملی نقشے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ نہر سویز میں درجنوں بحری جہاز ایک جانب ٹھہر کر راستہ کھلنے کے منتظر ہیں۔

دنیا میں بحری جہازوں کی مالک سب سے بڑی کمپنی "میرسک" کی خاتون ترجمان کے مطابق کمپنی تمام ممکنہ متبادلوں پر غور کر رہی ہے۔ میرسک کمپنی کے نو کنٹینر جہاز اور دو شریک جہاز نہر سویز کے کھلنے کے انتظار میں لنگر انداز ہیں۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آنے والے اس واقعے نے تیل اور دیگر تجاری سامان کی حوالگی کی کارروائیاں سست کر دی ہیں۔ اس خبر سے بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔

رائسٹائڈ بیورو کے بیونر ٹون ہوگن کا کہنا ہے کہ اگر نہر سویز میں یہ تعطل کئی روز تک جاری رہا تو تیل کی قیمتوں پر اس کا اثر بڑا اور زیادہ عرصے کے لیے ہو سکتا ہے۔

نہر سویز میں پھنسے ہوئے بحری جہاز "ایور گرین" کی لمبائی 400 میٹر اور چوڑائی 59 میٹر ہے۔ اس میں لدے ہوئے مال کا مجموعی وزن 2.24 لاکھ ٹن ہے۔ یہ چین سے روٹرڈم کی جانب جا رہا تھا۔ اس دوران میں وہ مصر کے شہر سویز کے نزدیک پھنس گیا۔

سنگاپور میں قائم کمپنی "برنارڈ شاہ شپ مینجمنٹ" کے مطابق جہاز پر موجود عملے کے 25 افراد محفوظ ہیں۔ ابھی تک جہاز پر لدا مال بھی کسی نقصان یا آلودگی سے متاثر نہیں ہوا ہے۔

ماہرین کا غالب گمان ہے کہ اس حادثے کے پیچھے تند و تیز ہوا کا ہاتھ ہے۔ نہر سویز اتھارٹی کے مطابق حادثے کی وجوہات میں خراب موسم (ریت کی آندھی) کے نتیجے میں حد نظر کا ختم ہو جانا بھی شامل ہے۔

بحر احمر کو بحر روم سے ملانے والی نہر سویز 1869ء میں تعمیر ہوئی۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے 2015ء میں نہر کے لیے ایک ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد بحری جہازوں کے لیے انتظار کا عرصہ کم کرنا اور 2023ء تک نہر استعمال کرنے والے جہازوں کی تعداد کو دگنا کرنا ہے۔

عالمی بحری تجارتی نقل و حرکت کا 10 فی صد حصہ نہر سویز سے گزرتا ہے۔ یہ ایشیا کو یورپ سے ملانے والا اہم ترین بحری راستہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 193 کلو میٹر طویل اس نہر سے روزانہ تقریبا 10 ارب ڈالر مالیت کا سامان گزرتا ہے۔ معروف بحری جریدے ’لائیڈز لسٹ‘ کا کہنا ہے کہ اوسطاً دن میں 50 سے زائد جہاز نہر سویز کو عبور کرتے ہیں جن میں 1.2 ارب ٹن کارگو لدا ہوتا ہے۔