.

ایران اور چین کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کا 25 سالہ سمجھوتا 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے 25 سالہ سمجھوتا طے پایا ہے۔اس سمجھوتے پر دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے ہفتے کے روز تہران میں منعقدہ ایک تقریب میں دست خط کیے ہیں۔

ایران کی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے قبل ازیں کہا کہ ’’ہمارے ایران سے تعلقات موجودہ صورت حال سے متاثر نہیں ہوں گے بلکہ یہ مستقل اور تزویراتی تعلقات برقرار رہیں گے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ایران دوسرے ممالک سے اپنے تعلقات کا فیصلہ آزادانہ طور پر کرتا ہے اور وہ بعض دوسرے ممالک کی طرح نہیں ہے جو صرف ایک فون کال پر اپنا مؤقف تبدیل کرلیتے ہیں۔‘‘

مسٹر وانگ یی نے دوطرفہ تعاون کے سمجھوتے سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی تھی اور ان سے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

صدر روحانی کے مشیر حسام الدین عشینہ کا کہنا تھا کہ ’’یہ سمجھوتا کامیاب سفارت کاری کی ایک مثال ہے۔ایک ملک کی مضبوطی اس کی اتحادوں میں شمولیت کی صلاحیت میں مضمرہے اور یہ کہ وہ زیادہ دیر دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہے۔‘‘

اس سمجھوتے کے تحت توقع ہے کہ چین ایران میں توانائی اورانفرااسٹرکچر سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ’’یہ دستاویز (سمجھوتا) تجارت ، معیشت اورٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک نقشہ راہ ہے۔اس میں طرفین کے نجی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔‘‘

چین ایران کا دیرینہ اتحادی اور سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے،اس نے 2016ء میں آیندہ ایک عشرے کے دوران میں دوطرفہ تجارت میں10 اضافہ کرنے اور اس کو 600 ارب ڈالر تک بڑھانے سے اتفاق کیا تھا۔

چین کی وزارت تجارت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ بیجنگ 2015 میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو بچانے اور چین،ایران تعلقات کے جائز مفادات کے دفاع کی کوشش کرے گا۔

اس جوہری سمجھوتے کے دوسرے فریقوں امریکا اور مغربی طاقتوں کا ایران سے تنازع چل رہا ہے۔وہ ایران سے اس سمجھوتے کی تمام شرائط کی پاسداری پر زور دے رہے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے اس پر عاید کردہ تمام اقتصادی پابندیوں کو ختم کرے۔واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں اس سمجھوتے کو خیرباد کہہ دیا تھا اور ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔